بدین:گاؤں لعل بخش نوتکانی کے 3 ہزار سے زائد افراد پینے کے پانی سے محروم، خواتین و بچے پانی کیلئے خوار

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)ضلع بدین کی انتظامیہ، منتخب اراکینِ پارلیمنٹ، یوسی اور ضلع کونسل چیئرمین، نیز محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بدین کی نااہلی کے باعث ورلڈ بینک کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی دیہی واٹر سپلائی اسکیم غیر فعال ہو چکی ہے اور دیہاتی اس سے محروم ہو گئے ہیں
تفصیلات کے مطابق تحصیل بدین کے گاؤں لعل بخش نوتکانی میں سال 1995-96 کے دوران ورلڈ بینک نے کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک دیہی واٹر سپلائی اسکیم تعمیر کرائی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد گاؤں کے 200 سے 250 گھروں پر مشتمل تین ہزار سے زائد آبادی کو گھر گھر پانی فراہم کرنا تھا۔ یہ اسکیم دیہاتیوں کے پینے اور روزمرہ استعمال کے پانی کا واحد ذریعہ ہے ضلع بدین کی انتظامیہ اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ بدین کی غفلت اور عدم توجہ کے باعث یہ پوری اسکیم مکمل طور پر تباہ اور غیر فعال ہو چکی ہے۔ گزشتہ 30 برسوں کے طویل عرصے میں نہ تو تالابوں کی صفائی کی گئی اور نہ ہی مناسب مرمت کرائی گئی۔ چار دیواری اور دروازہ نہ ہونے کے باعث کتے، گدھے اور دیگر جانور واٹر سپلائی کے تالابوں میں داخل ہو کر انہیں آلودہ کر دیتے ہیں یا ان میں ڈوب کر مر جاتے ہیں، جس کی وجہ سے تالابوں کا پانی قابلِ استعمال نہیں رہتا گذشتہ دس سال سے واٹر سپلائی اسکیم کو فراہم کیا گیا ٹرانسفارمر حیسکو عملہ مرمت کے بہانے لے گیا تھا، جو آج تک واپس نہیں کیا گیا، جبکہ بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی زمین بوس ہو چکی ہیں۔ گاؤں کی خواتین اور بچے برتن سر پر اٹھا کر طویل فاصلے طے کرنے کے بعد تالابوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں ہم گاؤں لعل بخش نوتکانی، تحصیل بدین کے رہائشی انجینئر پبلک ہیلتھ، ڈپٹی کمشنر بدین اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری واٹر سپلائی اسکیم کی مکمل مرمت کرائی جائے، اس میں سولر سسٹم نصب کیا جائے اور دیہاتیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس منصوبے کو بحال کیا جائے تاکہ پانی کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔



