برسٹرسلمان صفدر نے سپرنٹنڈنٹ کے الزامات مسترد کر دئیے

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے بیرسٹر سلمان صفدر پر عدالت کو گمراہ کرنے کے الزامات پر سلمان صفدر نے ردعمل دیا ہے کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا درست نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے جمع کرائے جواب میں بیرسٹر سلمان صفدر نے ردعمل دیتے ہوئے ایکسپریس نیوز کو بتایا ہے میرا اسٹاف پچھلے چار ہفتوں کے دوران اس شدید گرمی میں 5 سے 6 بار اڈیالہ جیل کے باہر گیا، جیل حکام نے میرے اسٹاف کو وکالت نامے فراہم نہیں کیے انہیں باہر کھڑا کیے رکھا، سرفراز ایڈوکیٹ، احمد میسر اور خالد یوسف نے اڈیالہ جیل کے 5 سے زیادہ چکر لگائے، ہمیں 15 جون کی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت درخواست دائر کرنے پر مجبور کیا گیا۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ 15 جون کو توہین عدالت درخواست دائر ہونے کے بعد پہلی بار جیل حکام کی جانب سے مجھے کہا گیا صرف عمران خان کا وکالت نامہ لے لیں، کہا گیا بشریٰ بی بی کا نہیں صرف عمران خان کا دستخط شدہ وکالت نامہ لے جائیں، بشری بی بی کا وکالت نامہ نہ ہونا اور صرف بانی کا ہونا یہ ہمارے لیے ناقابلِ قبول تھا، توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے کے باوجود بھی 20 جون 2026ء کو قانونی ٹیم کی اڈیالہ جیل آمد پر پاور آف اٹارنی فراہم نہیں کی گئیں جو واضح طور پر مسلسل عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کو ظاہر کرتا ہے۔
سلمان صفدر نے کہا کہ 22 جون 2026ء کو بالآخر پاور آف اٹارنیز فراہم کی گئیںم تقریباً 75 دن کی بھرپور کوشش اور واضح عدالتی احکامات کے باوجود وکالت نامہ حاصل کرنا جیل حکام کے رویے پہ سوالیہ نشان ہے۔



