شہباز شریف کا گھیرا تنگ، پٹرول ریلیف کا ڈھونگ یا مجبوری؟

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا کمی کے بعد ملک بھر میں عوامی ریلیف کا ایک بڑا طوفان آنے کو ہے جس کا حتمی اعلان وزیراعظم شہباز شریف خود کرنے جا رہے ہیں تاہم اس بڑی خوشخبری کے باوجود وفاقی حکومت شدید ترین سیاسی و اقتصادی دباؤ کی زد میں آ چکی ہے۔ ایک طرف پٹرولیم لیوی کو آدھا کر کے عوام کو ڈیڑھ سے دو سو روپے فی لیٹر تک کا تاریخی ریلیف دینے کے متبادل راستے موجود ہیں تو دوسری طرف حکومت نے صوبوں کا گلا گھونٹتے ہوئے پنجاب سے 900 ارب اور سندھ سے 400 ارب روپے کی قربانی مانگ کر نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اسی دوران پاک امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے خفیہ سنسنی خیز معاہدے کے تحت جنیوا میں ہونے والے اہم ترین مذاکرات اچانک منسوخ ہونے پر سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور حکومت مخالف عناصر نے اسے پاکستان کی بڑی ناکامی قرار دینا شروع کر دیا ہے حالانکہ اس تاریخی ثالثی معاہدے پر پاکستان کے دستخط بطور امین موجود ہیں۔ اس شدید تناؤ کے ماحول میں اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے بھی حکومت پر بڑا سیاسی حملہ کر دیا ہے اور راجہ پرویز اشرف نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں فوری اضافے کا بڑا مطالبہ داغ دیا ہے جس نے شہباز شریف کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سنسنی خیز صورتحال اور پردے کے پیچھے چلنے والی تمام تر اندرونی کہانی کو تفصیل سے جاننے کے لیے سینیئر صحافی امداد سومرو کا یہ خصوصی وی لاگ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے مکمل دیکھیں۔




