سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، پاکستان

اسلام آباد، نیویارک (جانوڈاٹ پی کے\ویب ڈیسک) ) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نائب وزیراعظم کا مکتوب سلامتی کونسل کی صدر لیونور زالباتا ٹوریس کے حوالے کیا ہے جس میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سلامتی کونسل کو مراسلہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے اقدامات پاکستان کے آبی تحفظ، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خط میں سلامتی کونسل کی فوری توجہ دریائے چناب کے نظام سے متعلق دو غیرقانونی بھارتی انفراسٹرکچر منصوبوں کی جانب مبذول کرائی گئی ہے، جن کا مقصد پانی کا رخ موڑنا ہے۔
بھارت کے ان منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں کے بہاؤ اور استعمال کو غیرقانونی طور پر تبدیل کرنا چاہتا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جس کے پاکستان کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس نازک اور بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت کو اس کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق انہوں نے سلامتی کونسل کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال اور مسئلہ جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھارت کی مسلسل عدم عملداری سے بھی آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے اپریل میں بھی سلامتی کونسل کی صدر کو ایک خط لکھا تھا جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیے جانے کے ایک سال مکمل ہونے پر اس معاملے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور اس کے سنگین امن، سلامتی اور انسانی نتائج کو اجاگر کیا گیا تھا۔
ایک روز قبل اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ دریائے سندھ کے نظام پر بھارت کے کم از کم 17 منصوبے نئی دہلی کو آبی بالادستی کے آلات فراہم کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے، اس معاہدے کے تحت مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب زیادہ تر پاکستان کو دیے گئے ہیں۔
یہ معاہدہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ایک مضبوط فریم ورک کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے اور جنگوں و بحرانوں کے باوجود برقرار رہا تاہم 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کی ذمہ داریوں کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد اس پر دباؤ بڑھ گیا۔
جون 2025 میں پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن نے ایک ضمنی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔
ایک ماہ قبل پاکستان نے پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے ایک اور ضمنی فیصلے کا خیرمقدم کیا، جس کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے مغربی دریاؤں پر بھارت کی پانی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر واضح حدود عائد کرتا ہے۔
یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ڈیزائن سے متعلق تنازعات کے تناظر میں زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کے مسئلے پر دیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت یکم اگست سے ہماچل پردیش میں دریائے چناب پر مجوزہ لنک-3 پروجیکٹ پر کام شروع کرے گا، جس کا مقصد چناب کے اضافی پانی کو بیاس بیسن کی طرف منتقل کرنا ہے، اس منصوبے کی لاگت تقریباً 26.2 ارب بھارتی روپے بتائی گئی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اس منصوبے کو سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ بھارت سالانہ 1.9 ملین ایکڑ فٹ پانی چناب سے بیاس میں منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو بین الاضلاعی آبی منتقلی کے اصولوں اور معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع سالال ڈیم میں سلٹ فلشنگ کا منصوبہ بھی انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ اس سے بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے جو نہ سندھ طاس معاہدے اور نہ ہی 1978 کے سالال معاہدے کے تحت قابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے وفاقی وزراء نے ایک کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان کی طرف جانے نہیں دے گا۔



