وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش خوش آئند مگر محض زبانی پیشکش کافی نہیں، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیدیا۔

اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شہباز شریف کی پیشکش زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم نے آج تک نیک نیتی سے اپوزیشن کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو خود چل کر آنا چاہیے، آپ وزیراعظم ہیں آپ ہماری ملاقات کیوں نہیں کروا سکتے، بغل میں چھری منہ میں رام رام والا سسٹم نہیں ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ آپ کے ہاتھ میں نیوکلیئر بٹن ہے آپ ایک ملاقات کیوں نہیں کروا سکتے، یہ عجیب بات ہے ہر مرتبہ کہا جاتا ہے پوچھ کر بتائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کے پی میں بجٹ پاس کرنے کے لئے بانی سے ملاقات ہونا ضروری ہے، صوبائی حکومت کے پاس اچھی معاشی اور قانونی ٹیم ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ کے پی حکومت بجٹ کے حوالے سے وہ اقدام کرے گی، جس سے صوبے کے لئے مسائل پیدا نہ ہوں، بجٹ کے حوالے سے مجھے اپنی صوبائی حکومت اور قانونی ٹیم پر اعتماد ہے وہ بہت اچھا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے پاکستان نے ایران امریکا ثالثی میں اچھا کردار ادا کیا، جس جس نے بھی امن معاہدے میں کردار ادا کیا ان سب کو سراہتے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایران امریکا معاہدے کی طرح ہمیں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کےلیے بھی ایک امن معاہدہ کرنا چاہیے، ہمیں جمہوریت، آئین، معیشت کی بحالی، عوام کے حقوق کے لیے بھی معاہدہ کرنا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسمبلی میں ایک اچھا بیان دیا ہے، جے یو آئی (ف) سربراہ زیرک سیاستدان ہیں، ہماری خواہش تھی، وہ اپوزیشن الائنس کا حصہ بنیں، میں مولانا صاحب کا مشکور ہوں، انہوں نے بانی کے لئے آواز اٹھائی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہم کوئی شو نہیں کرنا چاہتے لوگ اظہار یکجہتی کے لئے آتے ہیں، احتجاج کرنا ہمارا آئینی جمہوری حق ہے، 245 دن ہو گئے ہماری بانی سےملاقات نہیں ہوئی، سزا یافتہ دہشت گرد کو بھی فیملی سے ملاقات کی اجازت ہے، اتنے بڑے لیڈر کی ملاقاتیں روکنا غیر انسانی سلوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری مختصر مطالبہ ہے بانی کا شفاء انٹرنیشنل منتقل کرکے ذاتی معالجین کو رسائی دی جائے، 3 انجکشنز کے بعد ڈاکٹروں نے بریف کیا تھا مزید کی ضرورت نہیں، بانی کو اب چوتھا اور پانچواں انجکشن بھی لگ چکا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے پی ملاقات کی تفصیلات کا علم نہیں، ملک میں سیاسی استحکام کے ساتھ معاشی استحکام آئے گا تو دفاع بھی مضبوط ہو گا، سیاسی میں جو تناؤ آیا ہے اس کو اسی مرحلے پر ختم ہونا چاہیے، گزشتہ 5 سال سے پاکستان کی اکنامک گروتھ ریٹ 2 اعشاریہ7 فیصد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے پی میں جن اراکین اسمبلی کے تحفظات ہیں انکو سنیں گے، ایم پی ایز کے اگر تحفظات ہیں تو ان کو دور کریں گے، بانی کی پوری حمایت سہیل آفریدی کو حاصل ہے، کے پی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں نہ ہی کوئی وزارت اعلی کا امیدوار ہے۔

مزید خبریں

Back to top button