کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، 181افراد ہلاک، متاثرین کی تعداد 782 تک پہنچ گئی

کنشاسا(جانوڈاٹ پی کے)جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد 782 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 181 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کانگو کی وزارتِ صحت کے مطابق ایبولا کی وبا ملک کے مختلف متاثرہ صوبوں میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں طبی ٹیمیں متاثرہ افراد کا سراغ لگانے، ویکسینیشن مہم چلانے اور مریضوں کو آئسولیشن مراکز میں علاج فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ کیسز کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں، تاہم وبا کا زیادہ تر پھیلاؤ مشرقی علاقوں ایتوری، نارتھ کیوو اور ساؤتھ کیوو میں دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 72 نئے تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، جن میں سے تمام کیسز صوبہ ایتوری میں رپورٹ ہوئے، جو اس وقت وبا کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جا رہا ہے۔
ایبولا ایک انتہائی متعدی اور جان لیوا وائرس ہے جو متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ جمہوریہ کانگو گزشتہ کئی برسوں سے وقفے وقفے سے ایبولا کے مختلف پھیلاؤ کا سامنا کرتا رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ گھنے جنگلات اور سرحدی نقل و حرکت کو قرار دیا جاتا ہے۔
وبا پر قابو پانے کے لیے حکومت اور بین الاقوامی ادارے رنگ ویکسینیشن، نگرانی، رابطہ ٹریسنگ اور فوری ردعمل کی حکمت عملی پر عمل کر رہے ہیں۔ تاہم بعض علاقوں میں سیکیورٹی خدشات اور دشوار گزار جغرافیائی حالات امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جلد تشخیص اور فوری آئسولیشن انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بیماری مزید علاقوں میں پھیل سکتی ہے۔
کانگو کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ فیلڈ تحقیقات اور ویکسینیشن مہم جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔



