لاڑکانہ چیمبر آف کامرس کا وفاقی بجٹ میں اندرون سندھ کو نظر انداز کرنے پر احتجاج

لاڑکانہ(رپورٹ:احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)لاڑکانہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں اندرون سندھ خصوصا لاڑکانہ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، چیمبر کے مطابق کراچی کے لیے 10 ارب اور حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ زرعی، تجارتی اور معاشی اعتبار سے اہم لاڑکانہ ڈویژن کو مناسب حصہ نہیں دیا گیا، پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ لاڑکانہ ڈویژن سے ہر سال تقریبا 3 لاکھ 42 ہزار میٹرک ٹن ایری 6 چاول برآمد کیا جاتا ہے جس سے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور ملکی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچتا ہے چیمبر نے کھاد سبسڈی میں اضافے، زرعی تحقیق کے لیے مزید فنڈز، رائس کینال میں فوری پانی فراہمی اور سندھ کے پانی کے حصے کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا، چیمبر نے پیٹرولیم لیوی میں اضافے، مختلف وفاقی ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور ایف بی آر کے اختیارات کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسیوں سے کاروباری برادری اور عوام مشکلات کا شکار ہیں، اس کے ساتھ سرکاری ملازمین کے لیے مزید ریلیف، موئن جو دڑو ایئرپورٹ کی بحالی، لاڑکانہ کو ایم 6 موٹروے سے منسلک کرنے، 500 کے وی گرڈ اسٹیشن، اسٹیٹ بینک برانچ اور ڈرائی پورٹ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا.
لاڑکانہ چیمبر آف کامرس نے دفاعی بجٹ میں اضافے، اوورسیز پاکستانیوں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس مراعات کا خیر مقدم کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاڑکانہ اور اندرون سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں.



