سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی،ایازلطیف پلیجو

ٹھٹہ(جاوید لطیف میمن /جانوڈاٹ پی کے)قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایازلطیف پلیجو نے کہا ہے کہ پانی زندگی اور بقا ہے۔ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے سندھ میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے کوٹری سے نیچے پانی نہ چھوڑنے کے باعث ساحلی پٹی میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ لوگ پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں اور مال مویشی پیاس سے مر رہے ہیں۔ ٹھٹہ، بدین اور سجاول ضلع کے ساحلی پٹی کے علاقوں کی لاکھوں ایکڑ زمین سمندر نگل چکا ہے۔ زیر زمین پانی زہریلا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت کی وجہ سے ٹھٹہ، سجاول، بدین، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، میرپورخاص اور سندھ کے کافی اضلاع شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ دھان کی پنیری، کپاس، کیلا، گنا، مرچ سمیت دیگر فصلیں جل رہی ہیں۔ سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے کسانوں اور آبادگاروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹا گیا ہے۔ بیراجوں کی صفائی، مرمت، بند مضبوط کرنے، واہوں، شاخوں اور ڈرین کی کٹائی کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ میں پانی کی قلت کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد سمیت بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا۔ پانی سے زرعی معیشت جڑی ہوئی ہے۔ زراعت کی وجہ سے پیسہ پورے ملک میں چلتا ہے۔ ملک کی اصل معیشت زرعی معیشت ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک زراعت میں جدت لاتے ہیں۔ کسانوں اور آبادگاروں کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرتے ہیں، لیکن خاص طور پر سندھ میں آبادگاروں اور کسانوں کو ہاتھوں ہاتھ تباہ و برباد کیا گیا ہے۔

ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ پانی صرف آبادگاروں اور کسانوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ کسان، آبادگار، طلبہ، خواتین سمیت سندھ کے لوگ دریا کو بچانے کے لیے جدوجہد کے میدان میں آئیں، ورنہ پانی کے ایک قطرے کے لیے ترس جائیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button