پانچ سالہ بیٹے کا واحد سہارا کتے کے کاٹنے کے بعد تشویشناک حالت میں، اہل خانہ کی حکومت سندھ سے فوری مدد کی اپیل

ماتلی(رپورٹ ایم آر گدی نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع بدین کے گاؤں اسماعیل جونیجو کے رہائشی 25 سالہ نوجوان نظیر احمد عرف قاضی ولد محمد عثمان کتے کے کاٹنے کے بعد انتہائی تشویشناک حالت میں مبتلا ہیں، جبکہ اہل خانہ نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے فوری مدد اور علاج کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ورثاء کے مطابق نظیر احمد دودھ کے کاروبار سے وابستہ اور اپنے خاندان کے واحد کفیل ہیں، جن پر ضعیف والدین، اہلیہ، پانچ سالہ بیٹے سمیت خاندان کے دیگر افراد کا انحصار ہے۔ کتے کے کاٹنے کے بعد انہیں ابتدائی علاج کے لیے انڈس اسپتال بدین منتقل کیا گیا، تاہم مطلوبہ سہولیات اور ادویات دستیاب نہ ہونے پر انہیں حیدرآباد لے جایا گیا، جہاں کچھ عرصہ علاج کے بعد ڈاکٹروں نے مزید علاج سے معذوری ظاہر کر دی، جس کے بعد انہیں واپس گھر منتقل کر دیا گیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نوجوان کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے، وہ شدید بے چینی کا شکار رہتے ہیں، غیر معمولی آوازیں نکالتے ہیں، لوگوں کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات خود کو نقصان پہنچانے جیسی حرکات بھی کرتے ہیں، جس کے باعث گھر میں خوف، پریشانی اور بے بسی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ورثاء کا کہنا ہے کہ محدود مالی وسائل کے باعث وہ مزید مہنگا علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اب ان کی تمام امیدیں سرکاری اداروں اور مخیر حضرات کی مدد سے وابستہ ہیں۔ متاثرہ نوجوان کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر بدین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بدین، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری نوٹس لیتے ہوئے نظیر احمد کو کسی بڑے اور خصوصی طبی مرکز منتقل کر کے ان کے علاج اور نگہداشت کے انتظامات کیے جائیں تاکہ ایک خاندان کے واحد سہارا اور ایک معصوم بچے کے والد کی جان بچائی جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button