لاڑکانہ کے نواحی گاؤں خیرو دیرو میں13سالہ لڑکی کی شادی کی کوشش ناکام

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ کے نواحی گاؤں خیرو دیرو میں13سالہ سمیعہ کی کم عمری میں زبردستی شادی کی کوشش کو سماجی رہنما کی نشاندہی پر ویمن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل، ویمن پولیس اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن لاشاری کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچی کو تحویل میں لیا اور والدین سے تحریری ضمانت لی کہ وہ 18 سال کی عمر سے قبل اس کی شادی نہیں کریں گے، اس سلسلے میں علی حسن منگی میموریل ٹرسٹ کی سربراہ سماجی رہنما نوین اے منگی نے کہا کہ بچیوں کی کم عمری میں شادی قابل گرفت جرم ہے گاؤں میں جب اس بات کا علم ہوا تو کمیونٹی سے رابطہ کیا گیا تاہم تعاون نہ ملنے پر قانونی مدد حاصل کرکے بچی کو کم عمری اور زبردستی کی شادی سے بچایا گیا والدین بچی کے بالغ ہونے تک شادی نا کرنے کے لیے رضامند ہو گئے ہیں. ادھر بچی کے والدین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنی بچی کو کم عمری میں رخصت نہیں کرینگے، وہ اس وقت تک محفوظ رہے گی جب تک قانونی طور پر شادی کرنے کی عمر کو نہیں پہنچتی. انہوں نے کہا کہ دولہا حفیظ شادی کرنے میں ناکام رہنے کے بعد بچی کو گم کرنے کی غلط بیانی کر رہا ہے جس کا نوٹس لیا جائے.



