70- ارب روپئے تھر کول رائلٹی کو ترقیاتی بجٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) تھر سٹیزن فورم نے تھر کول سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور منافع کو تھر کی ترقیاتی اسکیموں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے سندھ بجٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جو نیجو، عظمیٰ ابڑینگ، اعجاز بجیر، ساجن چارو، قربان سمیجو، جی ایم بجیر اور دیگر نے کہا ہے کہ تھر کول منصوبے سے اب تک تقریباً 62 ارب روپے رائلٹی اور 8 ارب روپے سندھ حکومت کے پاس منافع موجود ہے، لیکن یہ رقم تھر کی ترقی اور مقامی عوام کی فلاح پر خرچ نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور کمپنیاں سی ایس آر کے نام پر تھر فاؤنڈیشن کے ذریعے رقم جاری کرتی ہیں، تاہم اس سے کوئلے کے منصوبوں سے متاثرہ افراد یا عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
فورم رہنماؤں نے کہا کہ تھر میں پینے کے پانی، صحت اور تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے، جبکہ ہر سال بجٹ میں تھر کول رائلٹی کی رقم شامل کیے بغیر اسے علاقے کی ترقی کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کول رائلٹی اور منافع کو خصوصی طور پر تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے میگا پروجیکٹس میں لگایا جائے اور متاثرہ افراد کو روزگار، معاوضہ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
فورم رہنماؤں نے مزید کہا کہ 105 کلومیٹر ریلوے لائن کے لیے بھی مقامی لوگوں کی زمینیں بغیر مناسب معاوضے کے حاصل کی گئی ہیں، جس سے ان کے روزگار، راستے اور طرزِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تھر کول رائلٹی کو تھر کے عوام کی فلاح کے لیے خرچ نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔



