رَن شاخ میں پانی کی قلت، علاقہ تباہی کے دہانے پر، لوگ ہجرت اور زمینیں فروخت کرنے پر مجبور

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) رَن شاخ میں پانی کی شدید قلت کے باعث علاقے کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے متعدد خاندان روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ سونے جیسی زرخیز زرعی زمینیں بھی فروخت کی جا رہی ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زمینوں کی فروخت کے بعد بیرونی علاقوں سے آنے والے لوگ یہاں کوئلے کے بھٹے اور دیگر فیکٹریاں قائم کر رہے ہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور پورا علاقہ آہستہ آہستہ تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایک زمانے میں سرسبز اور آباد رہنے والے دیہات اب ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ پانی کی مسلسل کمی ہے۔

علاقہ مکینوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ایک فرد کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ پانی کا مسئلہ ہزاروں افراد کی بقا سے جڑا ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی فریق یا کردار پانی کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہو، اس کی نشاندہی کرنا ان کا حق ہے کیونکہ یہ مسئلہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔

مقامی رہائشیوں نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پانی کے اس سنگین مسئلے کو ذاتی یا سیاسی معاملہ سمجھنے کے بجائے عوامی مسئلہ تصور کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ان کے مطابق پانی صرف کسی ایک برادری کی ضرورت نہیں بلکہ لُنڈ، نہڑیو، میگھواڑ، بھیل، کولہی سمیت تمام برادریوں، مال مویشی پالنے والوں اور ہر ذی روح کی زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

علاقے کے لوگوں نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ رَن شاخ میں فوری طور پر پانی پہنچایا جائے تاکہ نقل مکانی کا سلسلہ روکا جا سکے، زرعی زمینوں کو بچایا جا سکے اور علاقے کو مزید تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر منتخب نمائندے انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے تو عوام ان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔

مزید خبریں

Back to top button