تھرپارکر کے گاؤں بنگل رند میں اونٹنی پروحشیانہ تشدد کرنے پر 2 ملزمان گرفتار،4 فرار

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) لائیو اسٹاک اینڈ اینیمل ہسبنڈری ڈیپارٹمنٹ تھرپارکر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق تعلقہ چھاچھرو کی یونین کونسل چارنور کے گاؤں بنگل رند میں ایک اونٹنی پر مبینہ وحشیانہ تشدد کے واقعے کا اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اَجے کمار روپانی کی سربراہی میں ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے واقعے کی شفاف تحقیقات کے احکامات دیے گئے۔ کمیٹی نے گاؤں کا دورہ کر کے واقعے کی تصدیق کی اور متاثرہ جانور کا طبی معائنہ بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ اونٹنی کے مالک لیلو ولد چاگو میگھواڑ نے بیان دیا کہ اس کی 13 سالہ دودھ دینے والی اونٹنی، جس کے ساتھ چار ماہ کا بچہ بھی موجود تھا، کو پڑوسی بااثر افراد مبینہ طور پر زبردستی لے گئے اور بعد ازاں اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مالک کے مطابق دباؤ اور دھمکیوں کے باعث اس نے تاخیر سے رپورٹ درج کروائی۔ ویٹرنری ماہرین کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جانور پر لاٹھیوں اور بھاری اشیاء سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی دائیں آنکھ مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے جبکہ بائیں آنکھ شدید متاثر اور سوجن کا شکار ہے۔ جانور کے جسم پر بھی تشدد اور رسی سے باندھنے کے نشانات پائے گئے ہیں۔ لائیو اسٹاک حکام کے مطابق متاثرہ اونٹنی کو فوری طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے، زخموں کی صفائی اور ضروری ادویات دی جا رہی ہیں جبکہ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے علاج جاری ہے۔ ماہرین کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ محکمہ کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ متعلقہ اعلیٰ حکام کو قانونی کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ کے نوٹس کے بعد واقعے میں ملوث 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جن میں سے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ 4 ملزمان تاحال فرار ہیں۔



