بدین میں آبی بحران شدت اختیار کرگیا،دھان اور دیگر فصلوں کو خطرہ،کاشتکار شدید پریشان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے) ضلع بدین میں آبی بحران شدت اختیار کرگیا ہے، متعدد نہروں اور شاخوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہونے کے باعث کاشتکار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں پانی کی قلت کے باعث دھان، گنا اور سبزیوں سمیت مختلف فصلوں کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو پورے ضلع میں زرعی اور معاشی بحران جنم لے سکتا ہے ضلع بدین سندھ کا ایک اہم زرعی ضلع ہے جو دھان کی  پیداوار کے حوالے سے ملک بھر میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ضلع میں ہر سال اربوں روپے مالیت کی دھان کی فصل کاشت کی جاتی ہے  ماہرین کے مطابق ضلع بدین کی زرعی پیداوار قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور حکومت کو دھان کی کروڑوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے تاہم مقامی کاشتکاروں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے ضلع کے بیشتر علاقوں کو مسلسل آبی قلت کا سامنا ہے ان کا مؤقف ہے کہ چند مخصوص علاقوں کے علاوہ  بدین اور دیگر زرعی علاقوں میں ہر سال دھان کی کاشت کے سیزن کے دوران پانی کی مصنوعی قلت پیدا کردی جاتی ہے جس سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے مقامی کاشت کاروں خدا ڈنو شاہ میر عارف تالپور حاجی عبد الرؤف نظامانی حاجی میر نور احمد تالپور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار اور کسان پہلے ہی مہنگے زرعی اخراجات، کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں، جبکہ اب پانی کی شدید قلت نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نہروں میں فوری طور پر پانی نہ چھوڑا گیا تو دھان کی کاشت شدید متاثر ہوگی جس کے اثرات نہ صرف کسانوں بلکہ مقامی معیشت اور ملکی زرعی پیداوار پر بھی مرتب ہوں گے انہونے الزام عائد کیا کہ ہر سال فصلوں کی کاشت کے اہم مواقع پر پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث بدین کے کاشتکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سندھ، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ضلع بدین کے تمام زرعی علاقوں کو ان کا مقررہ پانی فراہم کیا جائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے تاکہ کاشتکاروں اور کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبی بحران پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے دنوں میں زرعی پیداوار میں نمایاں کمی بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے اثرات پورے ضلع بدین پر مرتب ہوں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے نہروں میں پانی کی فراہمی بحال کرے اور کسانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے

مزید خبریں

Back to top button