بدین: سابق صحافی مرتضیٰ کھوسو کی مبینہ بے بنیاد گرفتاری پر شہریوں کا احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)نندو شہر کے سابق سینئر صحافی اور پی پی ایچ آئی میں ملازمت کرکے اپنے بچوں کا گزر بسر کرنے والے مرتضیٰ کھوسو کو ڈیوٹی ختم کرکے گھر جاتے ہوئے نندو پولیس نے مبینہ طور پر بے گناہ گرفتار کر لیا اور ان سے کچی شراب برآمد ظاہر کرتے ہوئے ان کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا اطلاعات کے مطابق گزشتہ کافی عرصے سے بدین پولیس کی جانب سے ضلع بدین میں منشیات کے خاتمے کے نام پر چلائی جانے والی مہم میں نوے فیصد بے گناہ افراد کی گرفتاریاں ظاہر کی جا رہی ہیں، جبکہ اصل منشیات فروشوں سے منشیات حاصل کرکے انہیں بے گناہ افراد پر ڈال کر منشیات مخالف مہم کی خانہ پُری کی جا رہی ہے۔ الزام ہے کہ اصل منشیات فروشوں سے ہفتہ وار بھتہ لینے کے عوض انہیں سہولت فراہم کی جا رہی ہے گزشتہ تین دنوں کے دوران نندو شہر میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک بے گناہ شہری گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق صحافی اور پی پی ایچ آئی ہیلتھ سینٹر نندو شہر میں پرچی کلرک کے طور پر کام کرنے والے مرتضیٰ کھوسو کی گرفتاری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کل جب وہ ڈیوٹی مکمل کرکے اسپتال سے نکلے تو نندو پولیس نے انہیں راستے سے حراست میں لے لیا ٹاؤن کمیٹی نندو شہر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں بھی مبینہ طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرتضیٰ کھوسو کی گرفتاری کے وقت ان کے پاس سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوا تھا
مرتضیٰ کھوسو کی گرفتاری کے بعد نندو کے صحافیوں نے پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام فہرست میں شامل ہے۔ دوسری جانب نندو کے شہریوں اور صحافیوں نے بھی گواہی دی ہے کہ مرتضیٰ کھوسو کسی بھی منشیات فروشی کے نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی وہ منشیات کی فروخت میں ملوث رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرکے ان کا ریکارڈ خراب کیا گیا ہے اور دوسری طرف انہیں بلاوجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو سراسر زیادتی ہے نندو کے شہریوں اور صحافیوں نے سندھ پولیس کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی ہے کہ سابق صحافی مرتضیٰ کھوسو کی گرفتاری، ان پر قائم کیے گئے مبینہ جھوٹے منشیات مقدمے اور ان سے برآمد ظاہر کی گئی کچی شراب کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا واقعی مرتضیٰ کھوسو سے کوئی منشیات برآمد ہوئی تھی؟ کیا وہ منشیات فروشی میں ملوث تھے؟ اگر نہیں، تو اس کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے انہوں نے ٹاؤن کمیٹی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج صحافیوں کو فراہم کی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مرتضیٰ کھوسو کو کہاں سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے کیا برآمد ہوا تھا۔



