پنگریو تھانہ میدانِ جنگ بن گیا، ایس ایچ او کی وردی پھٹ گئی
ایوب زنگیجو اور ایس ایچ او پنگریو رفیق سموں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)پنگریو تھانہ میدانِ جنگ بن گیا، ایس ایچ او کی وردی پھٹ گئی، تصادم کے بعد مقدمہ درج۔ پنگریو پولیس اسٹیشن میں بھیل برادری کے دو فریقوں کے درمیان جاری فیصلے کے دوران اس وقت ہنگامہ آرائی ہوگئی جب فیصلے میں شریک ایوب زنگیجو اور ایس ایچ او پنگریو رفیق سموں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ دونوں کے درمیان گتھم گتھا ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پنگریو تھانہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ عینی شاہدین کے مطابق فیصلے میں شریک افراد اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لاتوں اور مکوں کی بارش کردی گئی۔ تصادم کے دوران ایس ایچ او پنگریو رفیق سموں کی وردی بھی پھٹ گئی جبکہ تھانے میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ پولیس کے مطابق جھگڑے کے دوران ایوب زنگیجو کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ دیگر پانچ افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر ایس ایس پی بدین کو دی گئی جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کردی۔ اے ایس آئی منصور تھیبو کی مدعیت میں درج مقدمے میں ایوب زنگیجو، میر زنگیجو، غلام علی زنگیجو، سجن بھیل، گووند بھیل اور ایک نامعلوم شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں سرکاری فرائض میں مداخلت، پولیس اہلکاروں سے مزاحمت، گالم گلوچ، دھمکیاں، نشے کی حالت میں ہنگامہ آرائی، تھانے میں فائرنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت مختلف الزامات شامل کیے گئے ہیں۔ پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506، 353، 504، 34 سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار ملزم ایوب زنگیجو کو تحویل میں لے لیا ہے جبکہ فرار ہونے والے چار نامزد اور ایک نامعلوم ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پنگریو پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال قابو میں ہے تاہم تھانے میں پیش آنے والے اس غیرمعمولی واقعے نے شہری حلقوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔



