بی ایچ یو کلوئی میں سہولیات کی کمی، CSG کمیٹی نے فوری اقدامات اور اضافی عملے کا مطالبہ کر دیا

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) بی ایچ یو کلوئی کی CSG کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسپتال کو درپیش مختلف مسائل اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسپتال کی ایکسرے مشین طویل عرصے سے خراب ہے، پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں جبکہ ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اسپتال میں اس وقت صرف ایک لیڈی ڈاکٹر تعینات ہے، جو بڑھتی ہوئی مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اجلاس کے دوران روزانہ بڑی تعداد میں آنے والے مریضوں (او پی ڈی) کے پیش نظر مزید دو میڈیکل آفیسرز اور ایک اضافی لیڈی ڈاکٹر کی فوری تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ علاقے میں زیر زمین پانی کھارا ہونے کے باعث اسپتال میں پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام موجود نہیں، لہٰذا مریضوں اور عملے کے لیے ایک چھوٹے آر او پلانٹ کی تنصیب ناگزیر ہے۔ اجلاس میں اسپتال کی مجموعی خستہ حالی پر بھی غور کیا گیا۔ بتایا گیا کہ سال 2015 میں بی ایچ یو کلوئی کو رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) کا درجہ دیا گیا تھا، تاہم مطلوبہ بجٹ فراہم نہ ہونے کے باعث ادارہ تاحال بی ایچ یو کی سطح پر ہی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام سے مناسب بجٹ کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرکاء نے اسپتال کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے یہ بھی طے کیا کہ مریضوں کے علاوہ آوارہ نوجوانوں، غیر ضروری افراد اور اسپتال کے احاطے میں قائم ریڑھیوں کو باہر منتقل کیا جائے گا۔ غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت روکنے کے لیے کمیٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ میٹنگ کی کارروائی کے منٹس ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) تھرپارکر، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر، پی پی ایچ آئی، ایس ایس پی تھرپارکر اور ایس ایچ او کلوئی کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button