تھر کی خوبصورتی خطرے میں: موروں کی بیماریوں اور اموات پر تشویش، پورے ضلع میں علاج اور تحقیق کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ : میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھر کی قدرتی خوبصورتی اور پہچان سمجھے جانے والے مور بڑی تعداد میں بیماریوں اور اموات کا شکار ہونے لگے ہیں، جس پر مقامی رہائشیوں اور سماجی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گاؤں سومنہار اور اونہریو ونیھول کے رہائشی گلشن میگھواڑ اور دیگر افراد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تھر کے مختلف علاقوں، خاص طور پر تحصیل ڈیپلو کے مغربی علاقوں کے دیہات میں موروں کے علاج کی سہولیات نظر نہیں آتیں، جس کے باعث کئی مور تکلیف دہ حالت میں مر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مور صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ تھر کی خوبصورتی، ثقافت اور شناخت کا اہم حصہ ہیں، جو اپنی سریلی آواز اور خوبصورت رنگوں سے صحرا کے حسن کو برقرار رکھتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موروں کی تصاویر، پروں اور آواز کو تو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن جب وہ بیمار ہو جائیں یا مرنے لگیں تو ان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے جاتے۔ گلشن میگھواڑ نے مطالبہ کیا کہ ضلعی سطح پر متعلقہ محکمے اور جنگلی حیات کے ذمہ دار افسران فوری نوٹس لیں، پورے تھرپارکر میں موروں کی بیماریوں کے حوالے سے تحقیق کرائیں، اور علاج کی سہولیات صرف محدود علاقوں تک نہ رکھی جائیں بلکہ پورے ضلع میں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر تھر کی اصل خوبصورتی کو محفوظ رکھنا ہے تو موروں کے تحفظ، علاج اور دیکھ بھال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔



