آئینی اور سیاسی دنگل انجام کو پہنچ گیا

​اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​ملک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا آئینی اور سیاسی دنگل اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جہاں مقتدر حلقوں کی جانب سے بجٹ سے قبل 28 ویں آئینی ترمیم لانے کا سنسنی خیز اور جارحانہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق طاقتور حلقے ہر صورت بجٹ سے پہلے اس ترمیم کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ (NFC Award) پر شب خون مار کر صوبوں کا حصہ کم کرنا اور وفاق کو دینا چاہتے تھے تاکہ 18 ویں آئینی ترمیم کو غیر مؤثر کیا جا سکے۔ اس شدید اور ہولناک دباؤ کے سامنے صدر آصف علی زرداری چٹان بن کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے اس بڑے منصوبے کو پہلے ہی مرحلے میں چت کر دیا ہے۔ صدر زرداری نے مقتدر حلقوں کے دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پانچ جون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا بجٹ اجلاس طلب کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سیاسی شطرنج کے اصل کھلاڑی ہیں۔ اندرونی کہانی کے مطابق ورکرز کنونشن کے دوران صدر زرداری نے میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہ جانے والا ایک انتہائی سنسنی خیز جملہ بھی داغا کہ "اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس رہا ہی کیا ہے؟ ملک بھی ہمارا ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی ہماری ہے”۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستانی ڈرونز نے دہلی میں مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے اوپر پروازیں کر کے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ مقتدر حلقوں کی اس تاریخی پسپائی اور صدر زرداری کی سنسنی خیز جیت کے پسِ پردہ حقائق کو جاننے کے لیے معروف سینیئر صحافی امداد سومرو کا یہ ہوش ربا وی لاگ مکمل دیکھیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button