بدین میں مبینہ منشیات اسمگلنگ، پولیس خالی ٹینکر تحویل میں لینے تک محدود
سادہ لباس موٹر سائیکل سوار کون تھے؟ بدین واقعہ نے کئی سوال اٹھا دیے

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)گزشتہ رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب کینٹ روڈ پر اہل تشیع شیعا ہوں کے قبرستان سے منسلک رہائش علاقے میں رہائش پذیر بدین کے ایک نامور منشیات صفینہ ڈیلر کے گودام میں مبینہ منشیات صفینا سے لدا پیٹرول کا ٹینکر نمبر TTA 317 پہنچا جس کی اطلاع علاقے کے مکینوں نے بدین پولیس کو دی لیکن حزب روایت پولیس نے پہنچنے میں دیر کردی اور مبینہ پیٹرول کا ٹینکر واپس جا رہا تھا کے پولیس پہنچ گئی اور پیٹرول کا خالی ٹینکر کو تحویل میں لیکر ماڈل تھانہ بدین لا یا گیا جہاں ٹینکر کی تلاشی لی گئی لیکن ٹینکر سے کچھ بھی بر آمد نہیں ہوا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کو پڑوسیوں کی جانب سے 3گھنٹے سے زائد قبل اطلاع دی گئی تھی تاہم اس دوران پولیس موقع پر نہ پہنچی تک تک منشیات اتار لی گئی تھی اس کے بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور خالی ٹینکر کو تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس کو چاہیئے تھا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے ذریعے ان گھروں کی تلاشی لی جاتی جہاں مبینہ طور پر منشیات اتارا گیا تھا اور ساتھ ہی پڑوسیوں کی نشاندہی پر مزید کارروائی عمل میں لائی جاتی تاہم عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں مؤثر کارروائی نہیں کی عینی شاہدین نے مزید یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اکثر اسی نوعیت کا ٹرالا مبینہ طور پر منشیات لے کر آتا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض اوقات اسی ٹرالے کے ساتھ سادہ لباس میں موٹر سائیکلوں پر سوار افراد بھی موجود ہوتے ہیں عینی شاہدین کے مطابق رات کے وقت جب لوگ جمع ہوئے اور معاملہ کھل کر سامنے آیا تو مبینہ طور پر وہ موٹر سائیکلوں پر سوار سادہ لباس میں افراد موقع سے فرار ہو گئے یاد رہے کچھ ماہ قبل ایسا ہی واقع عمل میں آیا تھا بدین پولیس نے گولاڑچی کے قریب جاتی چوک سے سیمنٹ کی بوریوں سے لدا ایک ٹرالا پکڑا تھا جو حب بلوچستان کا تھا جس میں سیمنٹ کی بوریوں میں نان کسٹم چھالیہ بھری ہوئی تھی مبینہ طور نان کسٹم چھالیہ سے بری ڈہائی سو سے زیادہ بوریاں غائب کرکے صرف ایک سو ساٹھ کے قریب چھالیہ سے بری بوریاں صحافیوں کے سامنے ظاہر کی گئی تھی بدین پولیس نے بغیر تحقیقات کے اور اس ٹرالر کے مالک اور نان کسٹم چھالیہ اور اس سمینٹ کے ڈیلر کے ناموں کی بجائے اس ٹریلر کے ڈرائیور اور فرضی نام کے ایک شخص پر منشیات فروشی کا مقدمہ درج کردیا جس کا آ ج پتا ہی نہیں ہے اور اس ٹرالر ڈرائیور کا بھی ڈرامائی انداز میں سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ سے ضمانت کرائی لی گئی اور پولیس نے اس کیس کا فائنل بھی دفتر بند کردیا گزشتہ رات بھی اسی طرح کا ڈراما سین رچایا گیا پولیس کے ذرائع کے مطابق گرفتا کیا گیا ٹینکر کا ڈرائیور کا تعلق بھی بدین سے نہیں اور نہ ہی اس علاقے میں اس کا کوئی جان پہچان یا کوئی قریبی یا دور کا رشتےدار رہائشی پذیر ہے تو وہ ٹینکر رات کو بے گاھ وقت چار موٹر سائیکل سواروں کی نگرانی میں وہاں کیو ں اور کس کام سے پہنچا اور وہ ۔وٹر سائیکل سوار کون تھے اور کیوں غائب ہو گئے پولیس کے لیئے سوالیہ نشان ہے بدین کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ صوبائی وزیر داخلا آ ئی جی سندھ سمیت سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور بدین سے منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کے وہ اس سنگین معامرے کا نوٹس لیکر اعلٰی سطحی تحقیقات کرائی جائے اور بدین کے ہزاروں نوجوانوں کو منشیات کے زہر سے نجات دلائی جائے۔



