مٹھی میں ترقیاتی منصوبے پر سوال،18ملین روپے کی اسکیم کے باوجود کام ادھورا ہونے کی شکایات

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (پی پی اینڈ ایچ) کے تحت مٹھی ٹاؤن، ضلع تھرپارکر میں ترقیاتی کام کے لیے منظور شدہ منصوبہ MX24P00077 سوالات کی زد میں آ گیا ہے، جس کے تحت عیدگاہ چوک سے گئو شالا، اقلیتی قبرستان (شمشان بھومی/مسّان) تک پیورنگ بلاک فٹ پاتھ کی تعمیر، ہولی گراؤنڈ، پرانا میگھواڑ پاڑہ اور ماروی گرامر اسکول کے قریب ڈرین نالے کا کام شامل ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی منظوری 6 دسمبر 2024 کو دی گئی تھی اور اس کی کل لاگت 18 ملین روپے مقرر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک 2.250 ملین روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 15.750 ملین روپے منصوبے کی تکمیل کے لیے مختص ہیں۔

علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل سے مٹھی شہر میں آمدورفت، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے نظام میں واضح بہتری آئے گی، خصوصاً اقلیتی علاقوں اور عوامی مقامات پر رہائشیوں کو سہولت حاصل ہوگی۔

تاہم متعدد مقامی رہائشیوں اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ترقیاتی کام تاحال معیاری انداز میں مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ عیدگاہ چوک سے گئو شالا اور شمشان بھومی تک سی سی بلاک فٹ پاتھ کا کام طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ادھورا پڑا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مسّان مین روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث جنازہ (ارتھی) لے جانے والے افراد، قریبی آبادیوں کے رہائشیوں اور اسکول جانے والے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ حادثات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کام جلد شروع نہ کیا گیا تو منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ سماجی و شہری حلقوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی کام فوری مکمل کرایا جائے اور متعلقہ مقامی حکام سے جواب طلب کیا جائے کہ مقررہ مدت میں کام کیوں مکمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button