خیبرپختونخوا جل رہا ہے مگر کوئی توجہ نہیں دے رہا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان اور نظامِ انصاف کی صورتحال پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ “جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں”۔
لارجر بینچ میں کریمنل جسٹس سسٹم کی خامیوں اور فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل اور سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے باعث صورتحال انتہائی خراب ہے، جبکہ ڈی آئی خان، کرک اور ٹانک جیسے علاقوں میں جانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جا رہا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پراسیکیوشن سسٹم کمزور ہے اور افسران پسماندہ علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض بنیادی سہولیات جیسے ڈی این اے ٹیسٹنگ تک صوبے میں دستیاب نہیں۔
چیف سیکرٹری نے عدالت سے مزید وقت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اس پر عدالت نے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کارکردگی بہتر نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔



