وزیرآباد: واسا چارجز میں اضافے پر صنعتکاروں اور تاجروں کا اظہارِ تشویش

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)چیئرمین پاکستان کٹلری اینڈ اسٹین لیس اسٹیل یوٹینسلز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن محمد جمال بھٹہ، مینیجنگ ڈائریکٹر پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد محمد خالد مغل، چیئر پرسن کٹلری سیکٹورل کونسل وزیرآباد مہر شکیل اعظم،مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما مستنصر علی گوندل صدر پریس کلب وزیرآباد افتخار احمد بٹ اور پروفیسر حافظ محمد منیر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن وزیرآباد کے قیام کے بعد واسا وزیرآباد کی جانب سے واٹر سپلائی اور سیوریج چارجز میں نمایاں اضافہ مقامی آبادی خصوصاً مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائزز کرافٹ مینوں چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہا ہں ے انہوں نے کہا کہ وزیرآباد پاکستان کا تاریخی سٹی آف کٹلری ہں ے جہاں ہزاروں خاندان چھوٹے پیمانے کی مینوفیکچرنگ دستکاری اور مقامی کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ موجودہ معاشی حالات میں شہری پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت میونسپل کارپوریشن کو واٹر سپلائی سیوریج سینیٹیشن اور دیگر شہری خدمات کے بنیادی اختیارات حاصل ہیں اور اسی قانونی فریم ورک کے تحت واسا بطور اسپیشلائزڈ سروس ایجنسی خدمات انجام دے رہی ہے تاہم کسی بھی قسم کے نئے ریٹس فیس یا سروس چارجز کے نفاذ میں عوامی استطاعت شفافیت قانونی نوٹیفکیشن اور مقامی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہئے انہوں نے حکومت پنجاب سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب اور متعلقہ انتظامی حکام سے مطالبہ کیا کہ سابقہ میونسپل کمیٹی وزیرآباد کے واٹر سپلائی اور سیوریج شیڈول کو معمولی اور تدریجی اضافے کے ساتھ برقرار رکھا جائے اور واٹر سپلائی و سیوریج کے علیحدہ علیحدہ مناسب چارجز مقرر کیے جائیں تاکہ شہریوں تاجروں اور چھوٹے صنعتی اداروں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے انہوں نے کہا کہ جب تک میونسپل کارپوریشن وزیرآباد مکمل طور پر فعال منتخب بلدیاتی ادارے کی شکل اختیار نہیں کر لیتی اس وقت تک تمام فیصلے عوامی اعتماد انتظامی توازن اور مقامی مشاورت کے اصولوں کے مطابق کیے جانے چاہئیں محمد جمال بھٹہ اور محمد خالد مغل نے مزید کہا کہ وزیرآباد کی کاروباری برادری چیمبرز وکلاء صحافیوں اور سول سوسائٹی کا مشترکہ موقف ہے کہ بہتر شہری سہولیات اور صفائی کے نظام کی مکمل حمایت کی جائے گی تاہم پالیسیوں کو مرحلہ وار شفاف اور عوام دوست انداز میں نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد اور تعاون مضبوط ہو سکے۔



