بدین: بیوہ خاتون کے سسرال کی مبینہ زیادتیوں اور زمین پر قبضے کے الزامات،اعلیٰ سے تحفظ کی اپیل

بدين(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)گولارچی شہر کے وارڈ نمبر 1 کی رہائشی حمیرا بیوہ عبدالرحمان آرائیں مرحوم نے اپنے سسرال والوں کی زیادتیوں خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو سال قبل ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا جس کے بعد سسرال والوں اس کو پنجاب لے گئے جہاں پر اس کی ساس اس کے ساتھ سخت زیادتی کرتی تھی گھر کاسارا کام کاج اس سے کروایا جاتا تھا جبکہ خرچہ وغیرہ کچھ نہیں دیا جاتا تھا زیادتی کی حد یہاں تک کی گئی کہ میرے گولارچی والے گھر پر قبضہ کرلیا اور گھر کا سارا سامان میرا دیور اٹھا کر پنجاب رحیم یار خان لے گیا زیادتیاں جب ناقابل برداشت ہوگئیں تو اپنے بچوں دو لڑکے اور ایک لڑکی کو لے اپنے والد کے گھر ڈگری آ گئیں جہاں پر اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہی ہیں چونکہ میرے والد کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں ہے تو ان کے مشورے سے میں نے اپنے شوہر کی زرعی زمین 24 ایکڑ ٹھیکے پر دی ٹھیکہ ختم ہونے پر میں اپنے دیور سے مشورہ کیا کہ میں زرعی زمین دوسری پارٹی کو دینا چاہتی ہوں جس پر انھوں نے رضا مندی ظاہر کی جس کے بعد دوسری پارٹی کو وہ زرعی ٹھیکے دے دی تو میرا دیور مجھے فون سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے اور جس پارٹی نے زمین ٹھیکے پر لی ہے انہوں بھی دھمکیاں دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ وہ ایس ایس پی پاس گئی تھیں اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ زمین میرے بچوں کی ہے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ اور بچے اس صورتحال سے خوف زدہ اور پریشان ہیں انہوں نے آئی جی سندھ ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے اپیل کی ہے کہ انہیں اور اس کے بچوں کو تحفظ اور انصاف دلایا جائے



