80فیصد اسرائیلی فوجی’’پاگل پن‘‘کا شکار،سروس چھوڑنے والوں کی تعدا میں اضافہ

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی فوج کو حالیہ برسوں میں ایک نئے اور سنگین بحران کا سامنا ہے، جہاں فوجی سروس چھوڑنے والے اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 فیصد اہلکار ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل اور مسلسل جنگی حالات کے باعث فوج سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف اسرائیلی فوجی نظام بلکہ ملکی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مستقل اور ریزرو فوجیوں پر کام اور جنگی ذمہ داریوں کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ مسلسل فوجی آپریشنز، غزہ میں جاری جنگ، لبنان کی سرحدی کشیدگی اور ایران سے متعلق خطرات نے اسرائیلی فوج کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کا فوری اور مؤثر حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں فوج جنگی اور روزمرہ سکیورٹی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے ریزرو فوجیوں کو تین سال کے دوران صرف 25 دن خدمات انجام دینا پڑتی تھیں، تاہم 7 اکتوبر کے بعد صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔ اب بہت سے ریزرو اہلکار 170 دن سے زائد ڈیوٹی انجام دے چکے ہیں، جس کے باعث ان کی ذاتی زندگی، ملازمتیں اور ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے2026تک ریزرو ڈیوٹی کو80سے100دن تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن موجودہ حالات میں بعض یونٹس پہلے ہی اس حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اور لبنان سے متعلق اضافی فوجی مشنز اور مسلسل سکیورٹی خطرات اس دباؤ میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت اور فوجی قیادت نے اہلکاروں کی ذہنی صحت، آرام اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل پر فوری توجہ نہ دی تو اسرائیلی فوج کو مستقبل میں افرادی بحران، جنگی تھکن اور آپریشنل صلاحیت میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button