روسی صدر پوتن آج اہم دورے پر چین جائیں گے

ماسکو(جانوڈاٹ پی کے\ مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، توانائی تعاون اور عالمی سیاسی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی مذاکرات کریں گے، جبکہ پاور آف سائبیریا 2 گیس پائپ لائن منصوبہ بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔
روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر پوتن 19 مئی کی شام بیجنگ پہنچیں گے، جہاں چینی وزیر خارجہ وانگ یی ان کا استقبال کریں گے، 20 مئی کو بیجنگ کے تیانانمین اسکوائر میں صدر پوتن کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوگی۔
یوری اوشاکوف کے مطابق روسی وفد انتہائی اعلیٰ سطحی اور نمائندہ نوعیت کا ہوگا، جس میں پانچ نائب وزرائے اعظم، آٹھ وفاقی وزراء، روسی مرکزی بینک کی سربراہ ایلویرا نابیولینا، مختلف روسی ریجنز کے سربراہان اور بڑی سرکاری و نجی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پوتن اور شی جن پنگ روس چین تعلقات کے حساس ترین پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے، جبکہ ہائیڈروکاربن اور توانائی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی، پاور آف سائبیریا 2 گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی، جو روس اور چین کے درمیان توانائی تعاون کے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
روس اور چین تقریباً 40 مختلف معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط بھی کریں گے، جبکہ دونوں رہنما کراس ایئرز آف ایجوکیشن پروگرام کی افتتاحی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔
یوری اوشاکوف نے کہا کہ روس اور چین عالمی سطح پر ایک منصفانہ اور کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کے حامی ہیں اور دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کے بیشتر مؤقف ایک دوسرے سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں، ماسکو اور بیجنگ کسی کے خلاف اتحاد نہیں بنا رہے بلکہ امن، استحکام اور عالمی خوشحالی کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔
روسی صدارتی معاون کے مطابق گزشتہ سال روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 240 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً تمام تجارتی لین دین اب روبل اور یوان میں ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں روس سے چین کو تیل کی برآمدات میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ روس چین کو قدرتی گیس اور ایل این جی فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔



