سندھ ہائیکورٹ اے آئی سرچ انجن اور موبائل ایپ متعارف کروانے والی ملک کی پہلی عدالت بن گئی

کراچی (جانوڈاٹ پی کے)سندھ ہائیکورٹ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سرچ انجن اور موبائل فون ایپ متعارف کروا کر منفرد اعزاز حاصل کر لیا۔

سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آج دو اہم اور جدید ترین ڈیجیٹل منصوبوں کا افتتاح کیا گیا جن میں اے آئی سے لیس سرچ انجن LRC-Assistant اور دوسری آئی فون (iOS) صارفین کیلیے موبائل ایپ CFMS شامل ہیں، یہ دونوں سسٹم عدالت کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے خود تیار کیے ہیں جس کا مقصد عدالتی نظام کو جدید اور ہر عام و خاص کیلیے انصاف تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ کی موبائل ایپ آئی فون صارفین کیلیے ایک انتہائی آسان ایپ ہے جس کا مقصد سائلین، وکلا اور عام شہریوں کو عدالتی خدمات اور کیسوں کی معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے، اس کی اہم خصوصیات یہ ہیں:

  • ایپ کے ذریعے عدالتی پیشی اور تاریخ کی فوری اطلاع ملے گی
  • عدالتی نقول (CTC) کیلیے آن لائن درخواست، ای-نوٹس اور آن لائن کیس دائر کرنے کی سہولت
  • سندھ ہائیکورٹ، اس کے بینچوں اور تمام ضلعی عدالتوں کے کیسز کی تلاش
  • کاز لسٹ، عدالت کی کارروائی، ججوں کا روسٹر اور کیسوں کا شیڈول ایک ہی جگہ دستیاب ہونا

مزید بتایا گیا کہ یہ اے آئی پر مبنی قانونی تحقیق اور فیصلہ سازی میں مدد دینے والا ایک جدید ترین سسٹم ہے جو ایک ذہین چیٹ بوٹ انٹرفیس کے ذریعے معزز ججوں اور ریسرچ افسران کی مدد کرے گا، اس میں مشین لرننگ ماڈلز اور عدالتی ڈیٹا کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ جج صاحبان محض سوال پوچھ کر پرانے فیصلوں اور احکامات کا ریکارڈ منٹوں میں نکال سکتے ہیں، مزید برآں، یہ سسٹم اسکین شدہ اور ڈیجیٹل فائلوں سے ڈیٹا نکال کر عدالتی احکامات، کیس ڈائری اور دیگر متعلقہ ریکارڈ تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ پاکستان کی وہ پہلی عدالت بن گئی ہے جس نے اے آئی پر مبنی سرچ انجن متعارف کروایا ہے۔

منصوبوں کی افتتاحی تقریب کے دوران آئی ٹی کمیٹی کے چیئرمین اور معزز چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت، کمیٹی کے ممبران جسٹس محمد فیصل کمال عالم، جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور دیگر معزز جج صاحبان نے سندھ ہائیکورٹ کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی ان تھک کوششوں اور شاندار کارکردگی کو دل کھول کر سراہا۔

مزید خبریں

Back to top button