سدے تیمان:اسرائیلی جہنم میں کتوں کافلسطینی قیدیوں سے ریپ،انسانیت کے منہ پر زوردار طمانچہ

تحریر:نہال معظم

​انسانیت کی تذلیل کا جو کھیل آج کل اسرائیل کے عقوبت خانوں میں کھیلا جا رہا ہے، اس نے عصرِ حاضر کے نام نہاد مہذب معاشروں کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا ہے جس کی گونج صدیوں تک سنائی دے گی۔ نیویارک ٹائمز کے نکولس کرسٹوف نےاسرائیلی عقوبت خانے سدے تیمان اور دیگر حراستی مراکز سے جنسی تشدد اور کتوں کے ذریعے فلسطینیوں کی عصمت دری کے جو ہولناک قصے دنیا کے سامنے رکھے ہیں، وہ محض خبریں نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے مرنے کا ماتم ہیں۔ جب ہم یہ پڑھتے ہیں کہ تربیت یافتہ کتوں کو قیدیوں کے حساس اعضاء پر حملے کے لیے اکسایا جاتا ہے، تو روح کانپ اٹھتی ہے اور ذہن انسانی تاریخ کے ان تاریک ابواب کی طرف لوٹ جاتا ہے جہاں طاقت کے نشے میں دھت قوموں نے مفتوحین کو انسان سمجھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ یہ درندگی کوئی نیا مظاہرہ نہیں، بلکہ اس وحشت کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی مختلف ناموں اور شکلوں میں ابھرتی رہی ہے۔

​اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں ویتنام کی جنگ میں امریکی فوج کے ’ٹائیگر فورس‘ جیسے گروہ یاد آتے ہیں جنہوں نے انسانی کھالیں اتارنے اور کان کاٹنے کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا، لیکن قیدیوں کی اس سطح پر تذلیل جیسا کہ آج فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہی ہے، اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ عراق کی ابو غریب جیل کا سکینڈل ابھی انسانی حافظے سے محو نہیں ہوا، جہاں امریکی اہلکاروں نے عراقی قیدیوں کو برہنہ کر کے ان پر کتے چھوڑے تھے اور ان کی جنسی تذلیل کی تصاویر بنا کر جشن منایا تھا۔ آج اسرائیل انہی بدنامِ زمانہ طریقوں کو مزید وحشیانہ انداز میں دہرا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت دنیا نے تھوڑی بہت اخلاقی جرات دکھائی تھی، مگر آج عالمی طاقتیں ان مظالم پر خاموشی کی چادر تانے بیٹھی ہیں۔

​کتوں کا استعمال اور جنسی تشدد صرف جسمانی اذیت نہیں، بلکہ یہ روح کو کچلنے کا ایک نفسیاتی حربہ ہے۔ ماضی میں استعماری طاقتوں نے افریقہ اور جنوبی ایشیا میں بغاوتوں کو کچلنے کے لیے بھی ایسے ہی گھناؤنے ہتھکنڈے اپنائے تھے تاکہ آنے والی نسلیں مزاحمت کا نام لیتے ہوئے بھی کانپ جائیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ نازی جرمنی کے اذیت ناک کیمپوں میں بھی یہودیوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا تھا، ان پر طبی تجربات کیے جاتے تھے اور انہیں جانوروں سے بدتر حالات میں رکھا جاتا تھا۔ یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ جو قوم کبھی خود ان مظالم کا شکار تھی، آج وہی قوم تاریخ کے بدترین جلاد کا روپ دھار کر ایک نہتی قوم کے ساتھ وہی سب کچھ کر رہی ہے جس کی دہائی وہ دہائیوں سے دیتی آئی ہے۔

​نکولس کرسٹوف کی رپورٹ میں بیان کردہ واقعات محض انفرادی فعل نہیں ہو سکتے، یہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں کی خودداری کو خاک میں ملانا ہے۔ جب ایک فوجی اپنے سامنے بندھے ہوئے بے بس انسان پر ایک درندہ چھوڑتا ہے، تو دراصل وہ کتا نہیں بلکہ وہ فوجی خود درندگی کی آخری حد عبور کر چکا ہوتا ہے۔ ماضی میں بوسنیا کے جنگی کیمپوں میں بھی مسلمان خواتین اور مردوں کے ساتھ جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا تاکہ پوری قوم کے اعصاب توڑ دیے جائیں۔ آج غزہ اور مغربی کنارے کے قیدیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بوسنیا اور ابو غریب کی یاد تازہ کر رہا ہے۔

​انسانی حقوق کے عالمی علمبرداروں کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق پر تو لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں، لیکن جب انہی جانوروں کو انسانوں کی تذلیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ کالم لکھتے ہوئے قلم لرز رہا ہے کہ کیا ہم واقعی اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں جہاں مریخ پر بستیاں بسانے کی باتیں ہو رہی ہیں، جبکہ زمین پر انسان کو کتوں سے نوچوایا جا رہا ہے؟ یہ زخم اتنے گہرے ہیں کہ شاید وقت کے مرہم سے بھی نہ بھر سکیں۔ فلسطینی قیدیوں کی یہ چیخیں جو دیواروں کے پیچھے دبا دی گئی ہیں، ایک دن اس عالمی نظام کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیں گی جس نے انصاف کے بدلے مصلحت کو چنا۔ تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، نہ ان جلادوں کو جو کتے چھوڑتے ہیں، اور نہ ان تماشائیوں کو جو خاموشی سے یہ سب دیکھتے ہیں۔ یہ کالم محض ایک احتجاج نہیں، بلکہ ان بے زبان قیدیوں کے نام ایک نوحہ ہے جن کی عصمتوں اور جسموں کو تاریخ کے بدترین استبداد کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button