تھرپارکر میں خودکشیوں میں اضافہ،لڑکی اور شادی شدہ خاتون نے زندگی کا خاتمہ کر لیا

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات روز بروز تشویش کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق غربت، گھریلو پریشانیاں، ذہنی دباؤ اور سماجی مسائل نوجوانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ تازہ دو مختلف واقعات میں ایک شادی شدہ خاتون اور ایک کم عمر لڑکی نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ پہلے واقعے کے مطابق ننگرپارکر کے قریب گاؤں کوواڑا میں 24 سالہ شادی شدہ خاتون دیمی زوجہ رائمل کولہی نے مبینہ طور پر درخت سے پھندا لے کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ دوسرے واقعے میں مٹھی تعلقہ کے گاؤں بابی جو تڑ میں 16 سالہ موراں دختر کونپو میگھواڑ نے مبینہ طور پر گھریلو ناچاقی کے باعث گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اسپتال منتقل کیا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ علاقے کے سماجی حلقوں اور شہریوں نے بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرپارکر میں نفسیاتی سہولیات کی کمی، بے روزگاری، غربت اور سماجی مسائل کے باعث ایسے افسوسناک واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔



