پنکی نےانکشافات کاپنڈورا کھول دیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)مبینہ “کوکین کوئین” انمول عرف پنکی سے متعلق تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق پنکی کم عمری میں ہی منشیات کے دھندے سے وابستہ ہوگئی تھی۔

ملزمہ نے14سے15برس کی عمر میں منشیات فروشی شروع کی اور16سے اس مکروہ کاروبار میں ملوث رہی۔تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ10سے15ہزار روپے فی گرام میں کوکین خرید کر اس میں مختلف کیمیکل ملا کر40سے45ہزار روپے فی گرام تک فروخت کرتی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کوکین تیار کرنے اور اسے کیمیکل کے ذریعے بڑی مقدار میں تبدیل کرنے میں مہارت رکھتی تھی۔ملزمہ200 سے300گرام کوکین کو ایک کلوگرام تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتی تھی اور ایک “کوکین انڈہ” آٹھ لاکھ روپے تک میں فروخت کیا جاتا تھا۔ملزمہ نے کراچی میں منشیات تیار کرنے کے لیے باقاعدہ لیبارٹری قائم کر رکھی تھی جہاں سے کیٹامائن،ایفیڈرین،میتھ اورلیٹوکین سمیت دیگر نشہ آور مواد بھی برآمد ہوا۔چھاپے کے دوران اعلیٰ معیار کی ہینڈ میڈ ریڈ وائن کی متعددبوتلیں اور15سے زائد “گولڈن کیپ” کوکین انڈے بھی قبضے میں لیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی نہ صرف کراچی بلکہ لاہور سے بھی اپنے نیٹ ورک کو آپریٹ کرتی رہی۔کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن اور ڈیفنس میں اس کے گاہکوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین رائیڈرز سمیت چار خصوصی رائیڈرز رکھے گئے تھے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمہ کے خریداروں میں طلبا و طالبات، نوجوان، کاروباری شخصیات اور بااثر افراد بھی شامل تھے جبکہ روزانہ لاکھوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کی جاتی تھی۔ ذرائع کے مطابق انمول سے منشیات خریدنے والوں کی تعداد 800سے ایک ہزارتک بتائی جا رہی ہے۔

تفتیشی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملزمہ غیر ملکی باشندوں سے کوکین خریدتی تھی جو منشیات جسم کے اندر چھپا کر پاکستان اسمگل کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ کی پہلے پنجاب پولیس کے ایک اہلکار سے شادی ہوئی تھی جو بعد میں طلاق پر ختم ہوگئی،جبکہ مبینہ طور پر سابق شوہر اس کاروبار میں اس کی معاونت بھی کرتا رہا۔ بعد ازاں ملزمہ نے انصرنامی شخص سے شادی کی جو ملائیشیا میں مقیم ہے۔ملزمہ کا دعویٰ ہے کہموجودہ منشیات کا کاروبار اس کے شوہر انصر کا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button