​پنکی کا پروٹوکول اور 12 مئی کی دہشت: ملک میں دوہرے قانون کا راج ؟

کراچی: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 12 مئی کا دن ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر درج ہے جس کے زخم آج بھی تازہ ہیں کہ کس طرح سیاسی مقاصد کے لیے انسانی جانوں کا زیاں کیا گیا اور بدقسمتی سے آج بھی وہی روش برقرار دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 12 مئی 2007 کو کراچی میں چیف جسٹس کی بحالی کی آڑ میں جو خونی کھیل کھیلا گیا، اس میں 50 سے زائد بے گناہ افراد لقمہ اجل بنے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج تک ان کے اصل قاتل قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔

​ اس وقت ملک میں قانون کے دوہرے معیار کی بدترین مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک طرف اڈیالہ جیل کے باہر سیاسی قافلوں کا میلہ لگا ہے اور 144 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف کے پی کے میں امن و امان کی صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ لکی مروت دھماکے کے شہداء اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس تک میسر نہیں۔ گوہر بٹ نے سوال اٹھایا کہ جو حکمران اپنے صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکتے، وہ وفاق میں انقلاب لانے کے دعوے کس بنیاد پر کر رہے ہیں۔

​رپورٹ میں کراچی کی معروف "پنکی” نامی خاتون کی عدالت میں پیشی کا تذکرہ کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بھی کڑی تنقید کی گئی ہے۔ منشیات کی سپلائی جیسے سنگین الزامات میں ملوث ہونے کے باوجود مذکورہ خاتون کو جس شاہانہ انداز اور بغیر ہتھکڑی کے عدالت لایا گیا، وہ غریب ریڑی بانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عمران خان کی ضمانت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر قانونی وضاحت دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیکشن 426 کے تحت 7 سال سے زائد سزا پانے والا قیدی دو سال سے قبل ضمانت کا حقدار نہیں ہوتا، لہٰذا یوتھیوں کی جانب سے کیا جانے والا پروپیگنڈا محض عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا ایک ذریعہ ہے۔

​صحافی: گوہر بٹ کا مکمل وی لاگ دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button