دیپالپور:نہر میں کار گرنے سے ایڈووکیٹ اپنی بیوی اور بیٹی سمیت جاں بحق

دیپالپور (وسیم احمد غوری/تحصیل رپورٹر/جانو ڈاٹ پی کے) دیپالپور کے علاقے ہیڈ گلشیر کی نہر میں گزشتہ روز گرنے والی کار اور اس میں سوار 3 افراد کی نعشیں ریسکیو 1122 نے 36 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیں جبکہ کار میں موجود 12 سالہ بچہ منعم رسول معجزانہ طور پر بحفاظت نہر سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ حادثہ گزشتہ روز پیش آیا جب دیپالپور بار کے معروف قانون دان محمد یوسف سپراء ایڈووکیٹ اپنی اہلیہ ساجدہ، بیٹی قرسم اور بیٹے مونم رسول کے ہمراہ ہیڈ گلشیر پر سیر کے لیے آئے تھے، گاڑی ریورس کرتے ہوئے بے قابو ہو کر نہر میں جا گری۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال نے کی جس میں 30 ریسکیورز، 8 غوطہ خوروں اور 4 کشتیوں نے حصہ لیا ۔ ریسکیو ٹیموں نے سکوبا سرچنگ، پلنجر سرچنگ، سونار ریڈار، بانسوں کے ذریعے تلاش اور 150 فٹ لمبی تار کے ساتھ 20 کلو وزنی سویپنگ ٹیکنیک استعمال کی۔ وائر سرچنگ کے دوران تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر کار کا سراغ ملا جس کے بعد سکوبا ڈرائیورز نے رسوں کی مدد سے گاڑی کو باہر نکالا۔ جاں بحق ہونے والوں میں محمد یوسف سپراء ایڈووکیٹ، ان کی اہلیہ ساجدہ اور بیٹی قرسم شامل ہیں۔ تینوں نعشوں کو ضروری کارروائی کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد کی المناک موت پر علاقہ بھر میں سوگ کا سماں ہے اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔a

مزید خبریں

Back to top button