کراچی:سانحہ 12 مئی کو 19 سال مکمل، متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) کراچی کی تاریخ کا سیاہ دن سانحہ 12 مئی کو 19 سال گزر گئے لیکن کسی کو سزا ملی نہ کوئی قصور وار قرار پایا، تقریباً دو دہائیوں کے باوجود متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
سانحہ بارہ مئی پر سیاسی تصادم، قتل و غارت گری اور بدامنی کا یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین باب میں شمار کیا جاتا ہے۔
12 مئی 2007 کو اُس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقع پر شہر بھر میں پرتشدد جھڑپیں، فائرنگ، جلاؤ گھیراؤ اور سیاسی تصادم دیکھنے میں آیا، 50 سے زائد افراد پرتشدد واقعات کی بھینٹ چڑھ گئے۔
گزشتہ برس انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق میئر کراچی وسیم اختر سمیت تین ملزمان کو شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر بری کردیا جبکہ اب بھی مختلف عدالتوں میں 18 کیسز زیر سماعت ہیں۔
سینئر قانون دان جی ایم فاروقی کہتے ہیں کہ حکومت کبھی بھی بارہ مئی کے مقدمات میں سزاؤں کے لئے سنجیدہ نہیں رہی، پولیس نے پہلے دن سے نہ شواہد اکٹھے کئے اور نہ ہی مؤثر تحقیقات کیں جس کی وجہ سے ملزمان سزا سے بچ گئے۔
ممبر سندھ بار کونسل ریاض احمد بھٹی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو چاہئے کہ بارہ مئی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے خصوصی اقدامات کرے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
قانونی حلقوں کے مطابق بارہ مئی صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ وکلا، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کے قتل کا ایک بڑا سانحہ تھا مگر تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود متاثرین انصاف سے محروم ہیں۔



