ننگرپارکر میں پینے کے پانی کا شدید بحران، زیرِ زمین پانی کڑوا، سیمے کا پانی بھی ختم

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ننگرپارکر شہر سمیت سولائی، آدھیگام، لاکڑ، کھڈیو، سوراچند، کوآڑا فولپورو، آلانی، بندھن، دودواہ، بڑتلا، چوڑیو، ووڑا وو، بہرانو، دانتو، چنوت، اٹهکپاریو، گڈھڑو، ومڑی، گونگڑی، برڑیو، ڈھیڈویرو، آسالڑی، چنیدا، سیڑھیوں، ویراواہ، دوتڑ، جام خان جو وانڈھیو، دینسی اور رینی پٹی کے علاقوں میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے، جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندے اور جانور بھی پیاس سے مرنے لگے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ آج سے اٹھارہ سال قبل شرجیل انعام میمن نے بڑی کوششوں سے نئوکوٹ سے ننگرپارکر تعلقہ تک پانی پہنچانے کے لیے پائپ لائن منصوبہ شروع کروایا تھا، مگر ان کے جانے کے بعد یہ منصوبہ مکمل طور پر بند پڑا ہے۔

مقامی افراد نے مزید بتایا کہ تقریباً دس سال قبل فریال تالپور نے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر نئوکوٹ سے ننگرپارکر تک پانی پہنچا دیا جائے گا، مگر یہ وعدہ صرف انتخابی نعروں تک محدود رہا اور آج تک عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

مزید خبریں

Back to top button