سینیٹ اجلاس میں بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر آج بھی پی ٹی آئی کا احتجاج

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سینیٹ اجلاس میں بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر آج بھی پی ٹی آئی نے احتجاج کیا، سندھ میں روبینہ چانڈیو کے غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا گیا، مولانا عطا الرحمان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہارکیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران قانون سازی، امن و امان، نیب مقدمات، غیرت کے نام پر قتل اور دہشت گردی سمیت اہم قومی معاملات زیر بحث آئے۔

مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی گئیں جبکہ متعدد ترمیمی بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیے گئے۔

وزیر قانون نے ایوان کو آگاہ کیا کہ نیب میں اس وقت 745 انکوائریز اور 226 تحقیقات زیر التوا ہیں۔

سینیٹ میں نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ترمیمی بل، پاکستان خودمختار ویلتھ فنڈ ترمیمی بل، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی اور این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان سے متعلق بلز پیش کیے گئے جنہیں قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔

ایوان میں این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد رپورٹ بھی پیش کی گئی جبکہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر بحث کے لیے تحریک منظور کی گئی۔

پی ٹی آئی کی رہنماء سینیٹر مشعال یوسف زئی نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی صحت کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں رات کے اندھیرے میں اسپتال لایا گیا، نہ ان سے ملاقات کروائی جارہی ہے اور نہ ہی ان کی میڈیکل رپورٹس ہمارے سامنے لائی جارہی ہیں۔

انہوں نے پھر تجویز دی کہ سینیٹ اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی کی ان سے ملاقات کروائی جائے جس پر وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا ان کی صحت کا جیل مینوئل کے مطابق خیال رکھا جارہا ہے جس وقت میڈیکل ایمرجنسی ہوگی اسی وقت انہیں اسپتال لایا جائے گا نہ کہ صبح ہونے کا انتظار کیا جائے گا، اگر انہیں جیل مینوئل سے ہٹ کر کوئی سہولیات چاہئیں تو عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

سندھ میں روبینہ چانڈیو کے غیرت کے نام پر قتل کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا گیا۔ سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ ایک لڑکی کو قتل کیا گیا اور بغیر کفن اور جنازے کے دفنا دیا گیا، اس پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما جو اس وقت پریذائیڈنگ افسر کی سیٹ پر بیٹھی تھیں انہوں نے کہا کہ شیری رحمان نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل میں سزا کی شرح صرف پانچ فیصد ہے، یہ بڑی شرم ناک بات ہے، ہمیں خواتین کے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔

دوسری جانب مولانا عطا الرحمان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر عابد شیر علی نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

اجلاس کے دوران عابد شیر علی اور کے یو آئی کے عطاء الحق درویش کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس پر پریذائیڈنگ آفیسر نے کارروائی پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں

Back to top button