یو اے ای میں منشیات کے استعمال کیلئے جگہ فراہم کرنا سنگین جرم قرار، 10 سال قید کی سزا ممکن

دبئی(جانوڈاٹ پی کے)متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منشیات یا نشہ آور ادویات کے استعمال کے لیے کسی جگہ کو فراہم کرنا، چلانا یا اس مقصد کے لیے استعمال ہونے دینا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے فیڈرل ڈیکری بائی لاء نمبر 30 آف 2021 کے آرٹیکل 53 اور 54 کے مطابق اگر کوئی شخص کسی مکان، کمرہ یا کسی بھی مقام کو منشیات کے استعمال کے لیے مختص کرے یا اس کی اجازت دے تو اسے سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق قانون کے تحت ایسے جرم میں ملوث افراد کو کم از کم 10 سال قید اور کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ بار بار جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا مزید سخت ہو کر عمر قید تک پہنچ سکتی ہے۔
قانون صرف اس جگہ کے منتظمین یا سہولت فراہم کرنے والوں تک محدود نہیں بلکہ وہاں موجود افراد کو بھی ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے ایسی جگہ پر موجود ہو جہاں منشیات استعمال کی جا رہی ہوں تو اسے بھی 6 ماہ سے ایک سال تک قید اور 10 ہزار سے 20 ہزار درہم تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، چاہے اس نے خود منشیات استعمال نہ کی ہوں۔
یہ قوانین خاص طور پر بیرونِ ملک کام کرنے والے مزدوروں اور تارکینِ وطن کے لیے اہم تنبیہ ہیں، کیونکہ بہت سے افراد مشترکہ رہائش گاہوں میں قیام کرتے ہیں۔
ایسے میں ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ رہنے والے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشتبہ یا غیر قانونی ماحول سے دور رہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو اپنے رہائشی ماحول میں منشیات کے استعمال کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر وہاں سے الگ ہو جانا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کو اطلاع دینی چاہیے، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران صرف وہاں موجود ہونا بھی قانونی مشکلات اور سزا کا باعث بن سکتا ہے۔



