صدر آصف زرداری کا چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس میں عالم اسلام کیساتھ تعمیری روابط بڑھانے کا عزم

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے ساتھ تعمیری روابط کے لئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں چھٹی بین الاقوامی پیغام اسلام کانفرنس کے آخری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ  طاہر محمود اشرفی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سعودی عرب اور فلسطین سمیت اسلامی ملکوں کے سفیروں، مفتی اعظم فلسطین محمد احمد حسین اور علماء کرام نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کانفرنس میں شرکت کرنے والے علماء بالخصوص فلسطین کے مفتی اعظم و قاضی القضا اور سعودی عرب کے وزیرِ مذہبی امور کے مشیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے منتظمین کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے عالمِ اسلام کے مختلف حصوں سے علماء اور مذہبی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ہمارا خطہ اور دنیا کئی چیلنجز سے دوچار ہیں، اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد ضروری ہے۔ صدر مملکت نے  مغربی ایشیا کے حالیہ بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جاری کشیدگی اور تنازعات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ عالمِ اسلام میں استحکام، معاشی حالات اور مجموعی احساسِ تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ انتہا پسندی، تشدد اور تقسیم نے ہمارے معاشروں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں، جہاں اسلام  مخالف عناصر اس کے پرامن اور انسان دوست اصولوں کو مسخ کرتے ہیں، وہیں ہمارے اپنے معاشروں میں بھی کچھ عناصر تشدد اور فرقہ واریت کے ذریعے ان غلط تصورات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام توازن، اعتدال اور انسانیت کا دین ہے، انسانی جان کا احترام اس کی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے، قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسانوں کو مختلف بنایا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں نہ کہ برتری کی بنیاد پر تقسیم ہو جائیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلام نے تنازعہ کے حالات میں بھی ضبط و تحمل کی تلقین کی ہے اور جہاں ممکن ہو امن کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں آپ کا کردار نہایت اہم ہوجاتا ہے، آپ کی ذمہ داری صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہیں بلکہ فکری رہنمائی اور عملی سمت فراہم کرنا بھی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہمیں ایک واضح اور قابلِ عمل راستہ پیش کرنا ہوگا جو اسلام کو امن اور بقائے باہمی کے دین کے طور پر پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہم نے مشکل تجربات سے سبق سیکھا ہے، ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے نتائج بھگتے ہیں، ان تجربات نے ہمیں ایک واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی شکل اور کسی بھی جواز کے تحت تشدد کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں ہم آہنگی کو فروغ دینا، عدم برداشت کی حوصلہ شکنی کرنا اور ان رشتوں کو مضبوط بنانا ہوگا جو ہمیں جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے ساتھ تعمیری روابط کے لئے پرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے قریبی خطے میں ہونے والی پیشرفت سے بھی آگاہ ہیں۔ صدر مملکت نے معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں اصولوں پر ثابت قدم رہنے کے ساتھ ساتھ ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اہمیت کی  یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے، ہم امن چاہتے ہیں مگر ایسا امن جو انصاف اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔ صدر مملکت نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام اْس وقت تک ممکن نہیں جب تک بنیادی مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کو سنجیدگی اور خلوص نیت کے ساتھ حل نہیں کیا جاتا۔ صدر مملکت نے فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ صدر مملکت نے کہا کہ اپنے مغربی ہمسائے افغانستان کی صورتحال بھی ہماری خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ استحکام، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور تعمیری روابط کی حمایت کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی سلامتی کے تحفظ اور اپنے عوام کی حفاظت کے لئے ضروری اقدامات بھی کئے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ افغانستان  بین الاقوامی معاہدوں بشمول دوحہ میں طے پانے والے معاہدوں کے تحت کئے گئے وعدوں پر مکمل طور پر عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہئے، پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس کانفرنس کے انعقاد کو ممکن بنایا، نیز انتہاپسندی و دہشت گردی کے خاتمے اور امتِ مسلمہ میں اتحاد و یگانگت کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف، حافظ طاہر محمود اشرفی، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور فلسطین کے مفتی اعظم محمد احمد حسین نے بھی خطاب کیا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور امت میں فکری اتحاد کے فروغ کے لئے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر نے معاشرے کی رہنمائی اور دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے میں علما کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی قیادت کو قومی سلامتی کے فروغ کیلئے گراں قدر  کردار پرشاندار الفاظ میں  خراجِ تحسین پیش کیا اور پاکستان کو ایک مضبوط سٹریٹجک طاقت بنانے میں سابق رہنمائوں کی خدمات کو بھی سراہا۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایوانِ صدر میں منعقدہ اس کانفرنس نے اسلام کو امن، محبت، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے دین کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سٹریٹجک طاقت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو جیسے رہنمائوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے جبکہ انہوں نے ملک کی موجودہ قیادت کو قومی مفادات کے تحفظ پر سراہا۔ فلسطین کے مفتی اعظم محمد احمد حسین نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ فلسطین امتِ مسلمہ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے فلسطینی کاز کی حمایت میں سعودی قیادت کے کردار کو بھی سراہا اور ایک پرامن مستقبل کے لئے امید کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ ایک دن ایسی کانفرنس مسجدِ اقصیٰ میں منعقد ہو سکے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین عالمِ اسلام کے لئے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مشکل حالات میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ حل کے لئے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔ تقریب کے آخر میں سعودی عرب کے سفیر، چیئرمین پاکستان علماء  کونسل اور سعودی عرب کی وزارتِ مذہبی امور کے مشیر نے صدر مملکت کو یادگاری تحائف پیش کئے۔ فلسطین کے مفتی اعظم، قاضی القضا اور فلسطینی سفیر نے بھی صدر کو یادگاری تحائف پیش کئے۔

مزید خبریں

Back to top button