ماتلی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ

ماتلی(رپورٹ:ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے)ماتلی میں حالیہ دنوں ڈکیتی،راہزنی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ سیف سٹی سسٹم، پولیس گشت اور نگرانی کے دعووں کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس کارکردگی پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں نوجوان صحافی دلمراد کمبوہ کے بھائی مزمل کمبوہ کی ایجنسی سے مسلح افراد پانچ لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہوگئے، جبکہ دوا ساز کمپنی کے ایک سیلز مین سے دو لاکھ روپے نقدی چھین لی گئی۔ اسی طرح ماتلی اور ٹنڈو غلام حیدر کی سرحدی حدود کے قریب واقع علاقے میں محمد قاسم میمن اسٹامپ وینڈر کے بھائی اور بھتیجے سے بھی پانچ لاکھ روپے کی ڈکیتی کی واردات رپورٹ ہوئی۔ شہر میں موٹر سائیکل چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد وارداتوں میں ملزمان سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واضح نظر آنے کے باوجود تاحال کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔ شہریوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر انٹیلیجنس ورک کے ذریعے بڑی وارداتوں کے ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، مگر موجودہ صورتحال پولیس کی حکمت عملی اور سیف سٹی سسٹم کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی وارداتوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔#

مزید خبریں

Back to top button