سندھ مسائلستان بن چکا ہے،علامہ راشد محمود سومرو

میرپورخاص(شاھدمیمن/جانوڈاٹ پی کے)جمعیت علمائے اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو نے کہا ہے کہ سندھ مسائلستان بن چکا ہے، 72 محکموں کی کرپشن کی فائلیں تیار ہو چکی ہیں،اگر سندھ سے پیدا ہونے والی گیس اور بجلی سندھ پر ہی خرچ کی جائے تو صوبے کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپورخاص پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، عبدالرزاق عابد لاکو، مولانا حفیظ الرحمان فیض، حاجی عبدالمالک، مولوی عادل لطیف، حاجی رفیق سومرو اور دیگر بھی موجود تھے۔راشد محمود سومرو کا مزید کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں میں بیٹھے حکمران جعلی راستے سے آئے ہیں ان کے پاس کوئی عوامی مینڈیٹ نہیں، اسی لیے ہم پہلے دن سے ان اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو اور ان کے ساتھیوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ انتخابات میں کیسے کامیاب ہوئے، اس لیے فوری طور پر صاف و شفاف انتخابات کرائے جائیں انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں امن کے حامی ہیں، پاکستان کے حکمرانوں سے کئی اختلافات کے باوجود عالمی سطح پر امن کے لیے پاکستان کے کردار کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں کیونکہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں علامہ راشد محمود سومرو نے کہا کہ سندھ مسائلستان بن چکا ہے، یہاں بے شمار مسائل ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی بورڈز سے متعلق حالیہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ 100 ارب روپے کے عوض نتائج تبدیل کیے گئے جبکہ 25،25 کروڑ روپے متعلقہ وزیر اور سیکریٹری کو دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش ہے تاکہ عوام کا تعلیمی بورڈز سے اعتماد اٹھایا جائے اور پھر نجی تعلیمی بورڈ لا کر دوبارہ کمائی کی جائے انہوں نے کہا کہ گندم خریداری میں ہر سال 70،70 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے اور اب مل مالکان کے ساتھ مل کر مزید کرپشن کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات سمیت 72 محکموں کی کرپشن کی فائلیں تیار ہیں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف مستقل کارروائی کے لیے اقتدار کی چابیاں ہمیں سونپی جائیں کیونکہ ہم کسی بھی کرپشن میں ملوث نہیں ہیں قبائلی تنازعات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ امن جرگوں کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے، جب ہم نے امن تحریک چلائی تو اس کے نتیجے میں جرگوں کے ذریعے امن کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قتل کے مقدمے کا فیصلہ عدالتوں میں 50،50 سال تک نہیں ہوتا، اسی لیے لوگ قبائلی جرگوں میں جاتے ہیں کیونکہ وہاں پانچ دن میں فیصلہ ہو جاتا ہے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر پگاڑا اور جی ڈی اے کے ساتھ انتخابی اتحاد ہوتے رہے ہیں تاہم کوئی سیاسی اتحاد موجود نہیں۔ قوم پرست جماعتوں سے بھی رابطے ہیں اور آنے والے وقت میں حکمرانی کی چابیاں جے یو آئی کے پاس ہوں گی سندھ میں گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ زیادتیوں کی تاریخ بہت طویل ہے۔ اس صوبے سے گیس، پیٹرول، تھر کول اور ونڈ پاور کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے، اگر یہی وسائل سندھ پر خرچ کیے جائیں تو یہاں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی داستان کھولی جائے تو سب رو پڑیں گے، حکمرانوں کی ترجیحات میں سندھ شامل نہیں۔



