مویشی چوروں کی رہائی نے نظام انصاف پر سوالات اٹھادیئے،ارباب انورجبار

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)ارباب گروپ کے رہنما اور سابق ضلع ناظم تھرپارکر، ارباب انور جبار نے پولیس اسٹیشن ڈانو دھاندل کی حدود میں مویشی چوری کے کیس میں گرفتار ملزمان کو مبینہ طور پر بااثر افراد کے دباؤ اور لین دین کے تحت رہا کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا کہ جب پولیس ملزمان کو گرفتار کرے، ایف آئی آر درج کرے اور چوری شدہ بکریاں بھی برآمد ہو جائیں تو اس کے بعد انہیں رہا کرنا نظامِ انصاف کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، نہ کہ بااثر افراد کے لیے نرم اور غریبوں کے لیے سخت۔
ارباب انور جبار نے مزید کہا کہ تھرپارکر میں روزانہ کی بنیاد پر مویشی چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث علاقے کے غریب لوگ، جو مکمل طور پر مال مویشی پر انحصار کرتے ہیں، شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملزمان کو رہا کرنا جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
انہوں نے ایس ایس پی تھرپارکر سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر کسی پولیس اہلکار یا بااثر فریق کی مداخلت ثابت ہو تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ ایس ایچ او ڈانو دھاندل کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
آخر میں ارباب انور جبار نے خبردار کیا کہ اگر انصاف کی فراہمی میں کوتاہی کی گئی تو تھرپارکر کے عوام سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ننگرپارکر اور گرد و نواح کے علاقوں کے غریب عوام کو چوروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا سراسر ناانصافی ہے، لہٰذا چوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔



