علی اکبر ساریجو اور محمد اقبال ساریجوکا جمہوریت کیلئے کردار بھلایا نہیں جا سکتا،کامریڈ عبداللہ چانڈیو

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)مارشل لا کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں علی اکبر ساریجو اور محمد اقبال ساریجو کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ٹارچر سیلوں کی اذیتوں اور جیلوں کی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا، انہیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان خیالات کا اظہار قومی عوامی تحریک کے مرکزی رہنما کامریڈ عبداللہ چانڈیو نے گاؤں لکھاڈنو ساریجو میں کامریڈ اکبر ساریجو کی سترہویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اکبر ساریجو شہید فاضل راہو کے بہادر ساتھیوں میں شامل تھے اور مارکسزم، لینن ازم اور فکرِ ماؤزیت تنگ کے پیروکار تھے۔ وہ سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی رہنما، ضلع بدین کے صدر اور محنت کش عوام کی جدوجہد کے قافلے کے ہراول دستے کے قائد تھے انہوں نے کسانوں، مزدوروں اور طلبہ کو منظم کرکے انہیں جدوجہد کے میدان میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے لیے سہارا اور محبت کرنے والے رہنما تھے۔ ان کی بے وقت وفات کے باعث محنت کشوں کی جدوجہد کا ایک مضبوط کردار ہم سے جدا ہوگیا انہوں نے کہا کہ اکبر ساریجو اور اقبال ساریجو کی جدائی بدین کے سیاسی کارکنوں اور جمہوریت پسند لوگوں کے لیے بہت بڑا نقصان ہے اس موقع پر ڈاکٹر علم الدین انصاری، کرمی قاضی، سلیم ساریجو، بشیر جونیجو، عثمان ملاح، حسنین ساریجو، میر فتح ریٻاری، پیر پپو شاہ اور میر لکھی ٹالپر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اس سے قبل مذکورہ رہنماؤں نے علی اکبر ساریجو اور اقبال ساریجو کی قبروں پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائیں اور فاتحہ خوانی کی۔



