شمالی وزیرستان میں قبائلی جنگ اور ایران امریکہ معاشی تناؤ

لاہور خصوصی رپورٹ: (جانو ڈاٹ پی کے)شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے درپا خیل میں اس وقت حالات انتہائی سنسنی خیز اور خونریز ہو چکے ہیں جہاں مقامی قبائل اور دہشت گردوں کے درمیان آمنے سامنے کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔اس ہولناک تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب دہشت گردوں کے ایک گروہ نے مقامی قبائلی سردار ملک سیف اللہ داوڑ کے گھر میں زبردستی پناہ لینے اور کھانا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر قبائلی غیرت اور سابقہ معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سردار نے انکارکر دیا تو دہشتگردوں نے وحشیانہ فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا۔اس بزدلانہ کارروائی نے پورے علاقے میں آگ لگا دی اور مقامی قبائل نے اپنے پیارے لیڈر کا بدلہ لینے کے لیے اسلحہ اٹھا کر دہشت گردوں کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے۔
عالمی منظرنامے پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سرد جنگ ایک نئے اور خطرناک موڑ میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس اراکچی کی تمام تر سفارتی کوششوں اور نئی تجاویز کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیکج کو کچرے کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے اسے "ناقابل قبول” قرار دے دیا ہے۔ امریکہ نے ابنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایران کا معاشی گلا اس قدر سختی سے دبا رکھا ہے کہ ایرانی معیشت اس وقت دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک جوہری پروگرام پر مکمل سرنڈر نہیں ہوتا یہ ناکہ بندی ختم نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی اصلیت دکھاتے ہوئے اسرائیل اور بھارت کی گود میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہاں سے اسرائیلی فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے ‘آئرن ڈوم’ اور ‘سپیکٹرو لیزر سسٹم’جیسے جدید ہتھیار دبئی پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ ایران کے ‘شاہد ڈرونز’ کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ اس بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں برسوں سے یو اے ای کی تعمیر و ترقی میں خون پسینہ بہانے والے پاکستانی ورکرز کو محض 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا ظالمانہ حکم دے کر بے دخل کیا جا رہا ہے جو کہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی اور معاشی دھچکا ہے۔




