گرینڈ حیات ڈرامہ بے نقاب،ہائپرسونک میزائل بمقابلہ مچھر کشتیاں

اسلام آباد(خصوصی تجزیہ/جانو ڈاٹ پی کے)اسلام آباد کے قلب میں واقع ‘گرینڈ حیات ریجنسی’ (Grand Hyatt) کیس ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، جہاں بااثر شخصیات اور سابقہ عدلیہ کے گٹھ جوڑ نے ریاست کو اربوں کا چونا لگایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ منصوبہ ہوٹل کے لیے الاٹ کیا گیا تھا لیکن وہاں غیر قانونی طور پر فلیٹس بنا کر بیچے گئے۔ اس اسکینڈل میں جسٹس اعجاز الاحسن اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جنہوں نے ریٹائرمنٹ سے محض ایک دن پہلے اس عمارت کو ریگولرائز کرنے کا مشکوک فیصلہ دیا۔ اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے بلڈنگ خالی کروا لی ہے، جس سے کئی بااثر سیاستدانوں اورشخصیات کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
دوسری جانب عالمی محاذ پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو جدید ترین ‘ہائپرسونک میزائل’ (Hypersonic Missiles) فراہم کر دیے ہیں، جن کا تجربہ حال ہی میں لبنان میں حزب اللہ کی سرنگوں کے خلاف کیا گیا ہے۔ جواب میں ایران نے اپنی ‘مچھر کشتیوں’ (Mosquito Boats) کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جو 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے اور راکٹ لانچرز سے لیس ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایرانی قیادت کا دعویٰ ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو یہ سینکڑوں کشتیاں امریکی بحری بیڑوں اور سپلائی لائنز کو نشانہ بنا کر بحیرہ عرب میں ‘موت کا جال’ بچھا دیں گی۔
صدر ٹرمپ کے اصرار پر ایران نے پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو نئی تجاویز ارسال کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان تجاویز میں ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے کے بدلے مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم پینٹاگون کے سخت گیر عناصر اب بھی ایران پر ایک فیصلہ کن فضائی حملے کے حق میں ہیں تاکہ اس کی نیوکلیئر اور میزائل ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اب تک 6500 ٹن سے زائد اسلحہ اسرائیل پہنچ چکا ہے، جو ممکنہ طور پر ایک بڑی جنگ کی تیاری ہے۔
اگر ایران نے باب المندب کو بند کروا دیا تو عالمی تجارت کا مزید 6 فیصد حصہ کٹ جائے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب اور خطے کی دیگر معیشتوں کو ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ جنگ سے اس لیے کترا رہا ہے کیونکہ اسے اپنے جانی و مالی نقصان کا خوف ہے، ورنہ انسانی جانوں کی ضیاع اس کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔




