دیوانے کا خواب،اسرائیلی نقشے اور جان لیوا نیلی پیلی ہری لکیریں

تحریر:نہال معظم

​دنیا جس وقت سفارتکاری کے بند کمروں میں امن کی راہیں تلاش کر رہی ہے، عین اسی وقت تل ابیب کے فوجی ہیڈکوارٹرز میں بیٹھ کر کچھ ایسے نقشے ترتیب دیے جا رہے ہیں جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے مسخ کر دینا ہے۔ یہ محض لکیریں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ خونی لکیریں ہیں جو زمین کے سینے کو چیر کر ایک ایسے بھیانک مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں جسے تاریخ "گریٹر اسرائیل” کے ایک ادھورے اور جنونی خواب کی تعبیر کے طور پر دیکھے گ۔ایک حالیہ لرزہ خیز رپورٹ نے اس سازش کے پردے چاک کر دیے ہیں جہاں اسرائیل نے "نیلی، پیلی اور ہری” لکیروں کے ذریعے غزہ اور اس کے گرد و نواح کو ایک نئی اور مستقل چھاؤنی میں بدلنے کا منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ نقشے بتاتے ہیں کہ اسرائیل اب صرف حماس کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ جغرافیے کے خلاف ایک ایسی منظم جنگ کا آغاز کر چکا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کی شناخت اور ان کی ریاست کے ہر ممکنہ وجود کو نقشے سے مٹانا ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ 1948 سے لے کر آج تک اسرائیل نے جب بھی نقشوں پر کوئی لکیر کھینچی، وہ فلسطینیوں کے لیے ہجرت اور بربادی کا پیغام لے کر آئی اور آج ایک بار پھر وہی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

​ان نقشوں میں سب سے زیادہ ہولناک وہ "زرد لکیر” ہے جسے اسرائیلی فوجی چیف ایال زمیر کے منصوبوں میں ایک نئی سرحد قرار دیا گیا ہے۔ یہ پیلی لکیر غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے جسے عرفِ عام میں نیٹزارم کوریڈور کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک سڑک نہیں بلکہ ایک ایسی فولادی دیوار ہے جو شمالی غزہ کو جنوبی غزہ سے کاٹ کر وہاں اسرائیلی فوج کے مستقل پنجے گاڑنے کی علامت ہے۔ اسرائیل کا یہ مذموم مقصد واضح ہے کہ وہ غزہ کو ایک مربوط خطے کے بجائے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں بانٹ دے تاکہ مستقبل میں کبھی بھی ایک متحد فلسطینی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ اس تقسیم کے ساتھ ہی "ہری اور سرخ” لکیروں کا وہ شیطانی کھیل شروع ہوتا ہے جہاں علاقوں کی درجہ بندی ان کی وفاداری کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ہری لکیریں ان علاقوں کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں اسرائیل اپنی مرضی کی کٹھ پتلی انتظامیہ لا کر تعمیرِ نو کا جھانسہ دے گا، جبکہ سرخ زونز وہ مقتل ہوں گے جہاں ملبے کے ڈھیروں کے سوا کچھ نہیں ہوگا اور وہاں کسی بھی فلسطینی کو واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ سراسر انسانیت کے خلاف وہ سازش ہے جس کا مقصد نسل کشی کے ذریعے آبادی کے توازن کو بگاڑنا اور فلسطینیوں کو صحرائے سینا یا دیگر ممالک کی جانب دھکیلنا ہے۔

​نیلی لکیر کا تذکرہ اس نقشے میں اسرائیل کے اس تزویراتی پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے جو صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ لبنان کی سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل ان رنگین لکیروں کے لبادے میں ایک ایسا بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے جہاں وہ بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی مرضی کا پہرا بٹھا سکے۔ یہ "دیوانے کا خواب” دراصل اس توسیع پسندانہ ذہنیت کی عکاسی ہے جو ارضِ مقدس کو صرف اپنی جاگیر سمجھتی ہے۔ دنیا حیران ہے کہ یہ نقشے کسی عالمی ادارے یا اقوامِ متحدہ کے منظور شدہ نہیں ہیں بلکہ یہ خالصتاً ایک ریاست کی ہٹ دھرمی اور سازش کا نتیجہ ہیں جو بندوق کی نوک پر جغرافیہ بدلنے کی عادی ہو چکی ہے۔ ماضی میں 1967 کی جنگ کے بعد بھی ایسے ہی نقشے بنائے گئے تھے، لیکن آج کی صورتحال اس لیے زیادہ سنسنی خیز ہے کہ اسرائیل اب زمین پر کنکریٹ کی مضبوط چوکیاں اور مستقل فوجی ڈھانچہ تعمیر کر رہا ہے تاکہ عالمی برادری کو ایک ایسی حقیقت کے سامنے جھکا دے جسے بدلنا ناممکن ہو۔

​ان نقشوں کی اہمیت عالمی امن کے لیے ایک بم کی طرح ہے کیونکہ اگر یہ لکیریں مستقل ہو گئیں تو دو ریاستی حل کا جنازہ نکل جائے گا اور پورا خطہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اسرائیل کا اصل فائدہ یہ ہے کہ وہ غزہ کے ساحلی ذخائر اور گیس کی دولت پر قبضہ کر کے خطے کا معاشی فرعون بننا چاہتا ہے۔ یہ محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم معاشی اور جغرافیائی ڈکیتی ہے جسے رنگین لکیروں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عالمی ضمیر کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا وہ خاموشی سے اسرائیل کو یہ نیا نقشہ ترتیب دینے دے گا یا پھر ان خونی لکیروں کو مٹانے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائے گا۔ یہ "دیوانے کا خواب” اگر تعبیر پا گیا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی کہ جب ایک پوری قوم کو نقشے سے مٹانے کے لیے قلم کے بجائے ٹینکوں سے لکیریں کھینچی جا رہی تھیں، تب دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ اسرائیل کی یہ رنگین لکیریں دراصل انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہیں جو صدیوں تک اس خطے کی بربادی کی داستان سناتی رہیں گی۔

مزید خبریں

Back to top button