صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یومِ کتاب پراہم پیغام

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یوم کتاب  پر پیغام۔

یونیسکو (UNESCO) کے زیرِ اہتمام، دنیا بھر میں منایا جانے والا کتاب کا عالمی دن ایک با معنی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن تمام اسکولوں، کالجوں اور سرکاری اداروں میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ موقع کتابوں کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے، مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے اور کتابوں سے رہنمائی اور علم حاصل کرنے کے متعلق شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔

کتاب زندگی کے عظیم ترین فلسفے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ علم و دانش میں اضافہ کرتی ہے، فکری صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے، معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے، انسانی سوچ اور عمل کو مہمیز دیتی ہے اور مختلف سماجی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر کام کرتی ہے۔ معاشروں کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہتا ہے اور ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے اور زندگی کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کتابوں کے مطالعے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کے پاکستان میں مصنوعی ذہانت (AI) کو اکثر ایک ایسے رجحان کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جیسے کہ ہم پہلے ہی ‘بعد از کتاب دور’ (Post-book era) میں داخل ہو چکے ہوں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مصنوعی ذہانت اور الگورتھم کے دور میں بھی کتابیں متروک نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی اہمیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے، بالخصوص پاکستان میں جہاں ادارہ جاتی صلاحیت، میڈیا کے نظام اور تعلیم کے معیار میں تفاوت پایا جاتا ہے۔

 کتابیں ماضی کا کوئی قدیم ورثہ نہیں بلکہ واضح سوچ، ثقافتی تسلسل اور باخبر فیصلہ سازی کی بنیاد ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں مصنوعی ذہانت عام ہو رہی ہو، حقیقی برتری ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو گہرائی سے مطالعہ کرنے، آزادانہ سوچنے اور مصنوعی ذہانت کو بیساکھی کے بجائے ایک صلاحیت کے طور پر استعمال کرتے ہوں۔

سب سے بڑھ کر، کتاب ایک مخلص اور سچی دوست ہے۔ بنی نوع انسان کا بہترین مطالعہ خود انسان ہے، اور کتابیں ہمیں عظیم شخصیات کی زندگیوں، واقعات، کارناموں، انقلابات، کامیابیوں اور ناکامیوں سے متعارف کراتی ہیں، جن میں سے ہر ایک ہمارے لیے ایک قیمتی سبق ہے۔ ان اسباق کے ذریعے ہم مستقبل کے لیے کامیاب منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ کتابیں خود آگاہی، کردار سازی اور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کتابوں نے ہمیشہ افراد کو اپنے معاشروں کی دیرپا کامیابی کے حصول کی طرف رہنمائی فراہم کی ہے۔ کتابوں سے ہم جو کچھ پڑھتے اور سیکھتے ہیں وہ زندگی بھر ہمارے ساتھ رہتا ہے اور ہر قدم پر ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

پاکستان میں مطالعہ کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے "یوم کتاب” شاندار جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، بالخصوص نیشنل بک فاؤنڈیشن، جو کہ مطالعہ کے کلچر کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کئی برسوں سے یہ ادارہ "یوم کتاب” پر بڑے پیمانے پر کتب میلے منعقد کر رہا ہے، جن میں لاکھوں لوگ مطالعے کے شوق کو جلا دینے کے لیے شریک ہوتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ "یوم کتاب” کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے، کتابوں کی اہمیت اور افادیت پر زور دیا جائے اور نئی نسل کو مطالعہ سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان میں مطالعہ کا دیرپا شوق پیدا ہو سکے، جو نہ صرف ذاتی کامیابی بلکہ پوری قوم کی ترقی کا باعث بنے۔

مزید خبریں

Back to top button