عالمی یوم ارض پرتھرپارکر میں”ہماری دھرتی،ہماری طاقت” کے عنوان سے سیمینار

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی/جانوڈاٹ پی کے)پوری دنیا کی طرح مٹھی میں بھی22اپریل کو عالمی یومِ ارض منایا گیا۔

اس موقع پر سندھ ماحولیاتی تحفظ ادارے کی جانب سے غیر سرکاری تنظیم کلائمیٹ اسمارٹ نیٹ ورک کے تعاون سے ورچوئل یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں”ہماری دھرتی،ہماری طاقت” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی تھے۔ڈاکٹر مہیش کمار ملاّنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی یومِ ارض ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں صحت مند ماحول کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے، جو ریاست کے ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے، توانائی کے فروغ، شجرکاری مہمات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی قلت، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر شہری کو سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا. اس موقع پر کلائمیٹ چینج نیٹ ورک کے چیئرمین اور معروف ماحول دوست پروفیسر نواز کنبھر نے کہا کہ سندھ کے چار اضلاع میں ماحولیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں آبادی میں مسلسل اضافہ، جنگلات کا خاتمہ، شہری پھیلاؤ، صنعتی فضلہ، بھٹوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت فی کس پانی کی دستیابی 5000 کیوبک فٹ تھی، جو اب کم ہو کر ایک ہزار سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر خصوصاً نگرپارکر سیاحتی، مذہبی اور تفریحی مقامات سے مالا مال ہے، جہاں تین ہزار سے زائد مقامات موجود ہیں، جنہیں فروغ دے کر مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ ادارہ میرپورخاص کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی محمد رند نے کہا کہ زمین کو آلودگی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی یونٹس کو فضلہ صاف کر کے خارج کرنے کا پابند بنایا گیا ہے جبکہ اینٹوں کے بھٹوں اور زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، پانی کے ضیاع کو روکا جائے، پلاسٹک بیگز کے استعمال سے گریز کیا جائے اور بجلی کے استعمال میں کمی لا کر ماحول دوست طرزِ زندگی اپنایا جائے۔ تھر فاؤنڈیشن کے جنرل منیجر جنید انصاری نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کی جانب سے 1.3 ملین ایکڑ رقبے پر پودے لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر قدرتی حسن اور جنگلی حیات سے مالا مال ہے، جہاں مور، ہرن، خرگوش اور تیتر سمیت متعدد جانور پائے جاتے ہیں. سیمینار سے کلائمیٹ اسمارٹ نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر اعجاز بجیر نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ ادارہ مختلف ماحول دوست منصوبوں پر کام کر رہا ہے جبکہ عوامی آگاہی کے لیے تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور دیہاتی سطح پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں

Back to top button