ٹھٹھہ حیدرآباد نیشنل ھائی وے کو ڈبل روڈ بنانے کی سفارش

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے )ایم این اے سید ایاز علی شاہ شیرازی کی جانب سے ٹھٹھہ سے حیدرآباد تک ڈبل روڈ کی تعمیر کے لیے وفاقی وزیر برائے کمیونیکیشن کو خط لکھنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کمیونیکیشن میں بھی اس منصوبے کی منظوری کے لیے اپنی سفارش جمع کرا دی گئی ہے اسی سلسلے میں پہلے مرحلے میں کینجھر تک ڈبل روڈ بنانے کے لیے جلد اقدامات اٹھانے کی درخواست کی گئی ہے یاد رہے کے ٹھٹھہ شہر سے حیدرآباد تک مین نیشنل ہائی وے سنگل روڈ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں یاد ریے کہ کاروبار کے حوالے سے زیادہ تر یہاں کے تاجروں کا انحصار اسی سڑک پر ہے اس کے علاوہ حیدرآباد، جامشورو اور ٹنڈو جام میں کئی یونیورسٹیاں قائم ہیں، جہاں سینکڑوں طلبہ و طالبات تعلیم کے حصول کے لیے اسی سڑک کا استعمال کرتے ہیں۔ مزید یہ ہے کہ اسی روڈ پر ملک کی مشہور کینجھر جھیل بھی واقع ہے، جہاں روزانہ کی تعداد میں کراچی شھر سمیت پورے سندہ سے سیاح تفریح کے لیے آتے ہیں جبکہ موٹر وے بننے کے بعد بھاری ٹریفک اسی سڑک کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس کی وجہ سے یہاں ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں حادثات روزانہ کا معمول بن چکے ہیں، متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے حیران کن بات یہ ہے کہ اس سڑک پر ٹول ٹیکس کا نظام بھی قائم ہے، اس کے باوجود سڑک کا معیار انتہائی ناقص ہے لہٰذا فوری طور پر ٹھٹھہ سے حیدرآباد تک ڈبل روڈ کی تعمیر کے احکامات جاری کیے جائیں، اور ابتدائی طور پر ٹھٹھہ سے کینجھر تک ڈبل روڈ بنانے کا کام شروع کیا جائے اس اقدام سے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ تاجروں، شہریوں، طلبہ اور سیاحوں کو بھی نمایاں فائدہ حاصل ہوگا، ٹریفک نظام بہتر ہوگا اور حکومت کو ٹیکس کی مد میں بھی خاطر خواہ آمدنی حاصل ہوگی۔



