بلوچستان میں امن و ترقی کے عزم کا اعادہ، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا دوٹوک مؤقف

کوئٹہ(جانوڈاٹ پی کے) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پاکستان نیول وار کالج کے 55ویں تربیتی کورس کے شرکاء سے ملاقات میں بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور نوجوانوں کی شمولیت کو ریاستی پالیسی کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کے قائدانہ کردار پر قومی و عسکری قیادت قابلِ تحسین ہے، جبکہ بلوچستان میں امن کے لیے سول و عسکری اداروں کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور ریاستی پالیسیوں کا محور بھی نوجوان ہی ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کے تاثر کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کر رہے ہیں، جبکہ بیرونِ ملک بیٹھے پاکستان مخالف گروہ بھی سرگرم ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بلوچستان حکومت نے خود “اون” کیا ہے، اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے 40 ارب روپے جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کیلئے 10 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کیلئے ڈائیلاگ، میرٹ اور شمولیت پر مبنی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور پہلی یوتھ پالیسی بھی متعارف کرائی جا چکی ہے۔

سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ جو نوجوان ریاست سے شکوے رکھتے ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے، لیکن ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button