بدین: آل سندھ شوگر ملز لوڈنگ لیبر کے مزدوروں کا کم اجرت اور مسائل حل نہ ہونے کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنیکا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)آل سندھ شوگر ملز لوڈنگ لیبر کے مزدوروں نے کم اجرت کی ادائیگی اور مزدوروں کے مسائل حل نہ ہونے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں لوڈنگ لیبر یونین کے عہدیداران کا ایک اجلاس مقامی ہال میں منعقد ہوا، جس کی صدارت میزبان ضلع بدین کے ضلعی صدر نے کی اجلاس میں بدین، ٹنڈو الہیار، سجاول، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان کے عہدیداران نے شرکت کی، جن میں آرمی شوگر مل سے ریاض علی، محمد سلیم ملاح، ٹنڈو الہیار شوگر مل سے محمد عمر عمرانی، ڈگری شوگر مل سے ارشاد پٹھان، چمبڑ شوگر مل سے گل بہار سمیت دیگر عہدیداران اور بڑی تعداد میں مزدور شامل تھے اجلاس میں شوگر ملز اور شوگر ڈیلرز کے لیے کام کرنے والے شوگر لوڈنگ لیبر کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ مزدور طویل عرصے سے انتہائی کم اجرت پر کام کر رہے ہیں اور دیگر بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ متعدد بار شوگر ملز انتظامیہ، بڑے شوگر ڈیلرز، تاجروں اور سندھ حکومت کے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا گیا، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی

شوگر لوڈر یونین کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس دور میں مزدور طبقہ شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کم اجرت کی وجہ سے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو مزدور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر فی بوری چینی 13 روپے لوڈنگ اجرت ادا نہ کی گئی اور مزدوروں کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو آل سندھ شوگر ملز شوگر لوڈنگ لیبر یونین بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرے گی، جس میں دھرنے اور ریلیاں شامل ہوں گی۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مقامی شوگر ملز انتظامیہ، شوگر ڈیلرز، سندھ لیبر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ حکومت اور لیبر ڈیپارٹمنٹ فوری نوٹس لے اور مزدوروں کو حکومتی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاوضہ، روزگار کا تحفظ، مستقل ملازمین کی طرح سہولیات اور حقوق فراہم کیے جائیں، اور لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button