امریکا نے شام میں فوجی موجودگی ختم کر دی،قصراک بیس شامی افواج کے حوالے

دمشق(جانوڈاٹ پی کے)امریکا نے شام میں اپنی فوجی موجودگی کے ایک اہم باب کا اختتام کرتے ہوئے شمال مشرقی شام کے قصراک (Qasrak) بیس سے آخری فوجی قافلہ روانہ کر دیا، جس کے بعد اس اہم فوجی اڈے کا کنٹرول باضابطہ طور پر شامی افواج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ شامی حکام کے مطابق یہ پیش رفت حسکہ صوبے میں واقع اسٹریٹجک بیس سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد سامنے آئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قصراک بیس شمال مشرقی شام میں امریکی اتحاد کا آخری بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، جہاں سے انسدادِ داعش آپریشنز اور لاجسٹک سرگرمیاں جاری تھیں۔ آخری قافلے میں بکتر بند گاڑیاں، فوجی سازوسامان اور سپلائی ٹرکس شامل تھے، جو سرحدی راستوں کے ذریعے شام سے باہر منتقل کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انخلا کے بعد شمال مشرقی شام میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگا اور شامی حکومت کو اس خطے پر مزید مضبوط کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ یہ اقدام ایک دہائی سے زائد امریکی عسکری موجودگی کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی تعاون سفارتی اور محدود آپریشنل سطح پر جاری رہ سکتا ہے۔
🔴 امریکا نے شام میں اپنی فوجی موجودگی ختم کر دی ہے۔ شمال مشرقی قصراک بیس سے آخری قافلہ روانہ ہو گیا ہے، اور اب اس علاقے کا کنٹرول شامی افواج کے پاس منتقل ہو رہا ہے۔
یوں 2014 میں شروع ہونے والی امریکی زمینی موجودگی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ pic.twitter.com/34hSrqMO5m
— RTEUrdu (@RTEUrdu) April 16, 2026



